صحافی صدیق کپن کے پاسپورٹ کی واپسی پر سماعت 2 نومبر تک ملتوی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 27-10-2026
صحافی صدیق کپن کے پاسپورٹ کی واپسی پر سماعت 2 نومبر تک ملتوی
صحافی صدیق کپن کے پاسپورٹ کی واپسی پر سماعت 2 نومبر تک ملتوی

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کی اس عرضی پر سماعت 2 نومبر تک ملتوی کردی، جس میں انہوں نے ہاتھرس سازش معاملے میں ضمانت کی شرط کے طور پر جمع کرایا گیا اپنا پاسپورٹ واپس کرنے کی درخواست کی ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے کی بنچ نے اتر پردیش کی مستقل وکیل رچیرا گوئل کے اس بیان کے بعد سماعت ملتوی کی کہ انہیں عرضی منگل کی صبح ہی موصول ہوئی ہے اور اس معاملے میں ہدایات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ بنچ نے ان کی دلیل قبول کرتے ہوئے کہا کہ اب اس معاملے کی سماعت 2 نومبر کو ہوگی۔

کیرالہ کے صحافی صدیق کپن کو 6 اکتوبر 2020 کو اتر پردیش کے ہاتھرس جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ وہاں ایک دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور اس کے قتل کے واقعے کی رپورٹنگ کے لیے جا رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد مبینہ طور پر فسادات بھڑکانے کی سازش کے الزام میں ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام قانون (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 9 ستمبر 2022 کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کے خلاف کپن کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی تھی۔ تاہم، عدالت نے ضمانت کے ساتھ کئی شرائط بھی عائد کی تھیں۔

ان شرائط کے مطابق جیل سے رہائی کے بعد کپن کو ابتدائی 6 ماہ تک دہلی میں رہنا تھا اور ہر پیر کو نظام الدین تھانے میں اپنی حاضری درج کرانی تھی۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 6 ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد وہ کیرالہ میں اپنے آبائی ضلع ملاپورم جا سکتے ہیں، جہاں انہیں ہر پیر کو مقامی تھانے میں حاضری دینی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے ضمانت کی شرائط میں یہ بھی کہا تھا کہ اپیل کنندہ ماتحت عدالت کی واضح اجازت کے بغیر دہلی کے دائرۂ اختیار سے باہر نہیں جا سکتے۔ انہیں ہر روز خود یا اپنے وکیل کے ذریعے ماتحت عدالت میں حاضر ہونا ہوگا اور اپنا پاسپورٹ تفتیشی ایجنسی کے پاس جمع کرانا ہوگا۔

اس معاملے میں ممنوعہ تنظیم پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے مبینہ تعلق رکھنے والے 4 افراد کے خلاف تعزیرات ہند اور یو اے پی اے کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ پولیس نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ ملزمان ہاتھرس میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے 2022 میں صدیق کپن کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مقدمے کے حقائق و حالات، جرم کی نوعیت، ریکارڈ پر موجود شواہد، ملزم کے مبینہ کردار اور ممکنہ سزا کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مرحلے پر انہیں ضمانت پر رہا کرنے کی حمایت میں فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔

تاہم، عدالت نے واضح کیا تھا کہ وہ مقدمے کے حتمی میرٹ پر کوئی رائے ظاہر نہیں کر رہی ہے۔ اس سے پہلے متھرا کی ایک عدالت بھی کپن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی تھی۔ واضح رہے کہ ہاتھرس کی دلت لڑکی کی 14 ستمبر 2020 کو اس کے گاؤں کے ہی 4 افراد کے ذریعہ مبینہ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ تقریباً 2 ہفتے بعد دہلی کے ایک اسپتال میں اس کی موت ہوگئی تھی۔ لڑکی کی آخری رسومات رات کے وقت اس کے گاؤں میں ادا کی گئی تھیں۔ اس کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ آخری رسومات ان کی رضامندی کے بغیر انجام دی گئیں اور انہیں لڑکی کی لاش آخری مرتبہ گھر لانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔