نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو اس مفاد عامہ کی عرضی پر اگلے ہفتے سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو معطل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی میں ان کی قیادت والے الیکشن کمیشن کے اس مبینہ طریقۂ کار کو بھی چیلنج کیا گیا ہے، جس میں دو دیگر الیکشن کمشنروں کی منظوری کے بغیر فیصلے کیے جانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس معاملے کا ذکر چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی۔ موہنا کی بنچ کے سامنے کیا گیا۔ معاملے کا ذکر کرنے والے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے بنچ سے کہا کہ قانونی نظام کے مطابق کثیر رکنی الیکشن کمیشن کے فیصلے اتفاق رائے یا اکثریت کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا، ’’جس طرح الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے، اس سے اس بات پر سنگین شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے فیصلے اتفاق رائے سے کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔‘‘ چیف جسٹس نے کہا، ’’ہم اسے اگلے ہفتے فہرست میں شامل کریں گے۔‘‘ پٹنہ کے رہنے والے راکیش کمار سنگھ کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی میں سپریم کورٹ سے یہ طے کرنے کی درخواست کی گئی ہے کہ کیا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار الیکشن کمیشن کے اجتماعی اختیارات کا انفرادی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اگر ایسا ہے تو ایسے اقدامات کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے مناسب قانونی کارروائی کی جائے۔
عرضی میں درخواست کی گئی ہے کہ موجودہ عرضی پر حتمی سماعت ہونے تک گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے فرائض انجام دینے سے روک دیا جائے۔ اس دوران کمیشن کا کام الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کے متفقہ فیصلوں کے ذریعے چلانے اور پیدا ہونے والی خالی جگہ پر تقرری چیف جسٹس آف انڈیا کو شامل کرنے والی کمیٹی کی سفارش پر کرنے کی ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ حتمی سماعت زیر التوا رہنے تک گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے کام کرنے سے معطل کیا جانا چاہیے، تاکہ الیکشن کمیشن کی کثیر رکنی حیثیت بحال کی جا سکے۔
یہ عرضی انگریزی روزنامہ ’انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ایک خبر کے پس منظر میں دائر کی گئی ہے۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراض درج کیا تھا۔ دونوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ یہ فیصلے ان کی معلومات یا سفارش کے بغیر جاری کیے گئے۔ تاہم، ایس آئی آر کے عمل کو لے کر اپنے دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے بعد تنقید کا سامنا کر رہے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کسی بھی ادارے میں غور و خوض کے دوران مختلف آرا اور تبصرے معمول کی بات ہیں۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے تمام احکامات کو مکمل قانونی بنیاد حاصل ہے اور وہ قائم شدہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہیں۔ عرضی میں مرکزی وزارت قانون، الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، سکھبیر سنگھ سندھو، وویک جوشی اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسر منیش گرگ کو فریق بنایا گیا ہے۔ عرضی میں دونوں الیکشن کمشنروں کی جانب سے درج تحریری اعتراضات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صرف میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر متعلقہ الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں مانا جانا چاہیے۔ عرضی میں عدالت سے الیکشن کمیشن کے اصل ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ ان میں اجلاس کی کارروائی، ایجنڈے، منظوری کے خطوط، فائل پر درج تبصرے، کام کی تقسیم سے متعلق احکامات، آئی ٹی رسائی کے ریکارڈ، سرور لاگز اور ڈیٹا بیس میں کی گئی تبدیلیوں کی تاریخ شامل ہے۔ عرضی میں اٹھائے گئے مسائل میں ووٹر لسٹ میں اندراج سے متعلق قانونی فارم-6 میں تبدیلی بھی شامل ہے۔
عرضی کے مطابق وویک جوشی نے 16 مئی 2026 کو اعتراض درج کرایا تھا کہ ووٹر رجسٹریشن رولز، 1960 میں ترمیم کیے بغیر ایس آئی آر سے متعلق اضافی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت کے لیے فارم-6 میں قانونی طور پر تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سکھبیر سنگھ سندھو نے 19 مئی کو اس اعتراض سے اتفاق کیا تھا۔ عرضی میں ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس کو بتدریج مرکزی سطح پر لانے کے معاملے میں جوشی کی جانب سے درج خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ڈیٹا بیس تک رسائی کے لیے استعمال ہونے والے ’لاگ اِن کریڈینشلز‘ کی آزادانہ جانچ کی درخواست کی گئی ہے۔
اس میں علاقائی سطح کے قانونی افسران کی ای سی آئی نیٹ نظام تک رسائی کے بارے میں درج اعتراضات کا بھی ذکر ہے۔ عرضی میں مغربی بنگال میں اپیلٹ ٹریبونلز کے سامنے الیکشن کمیشن کے نام سے اپیلیں دائر کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں سندھو کے مبینہ اعتراض کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے یہ جاننا چاہا تھا کہ ایسی اپیلوں کو کس نے اور کس اختیار کے تحت منظوری دی تھی۔ عرضی میں عدالت سے متنازع فارم-6 میں کی گئی تبدیلی اور آئی ٹی سے متعلق بعض کاموں کی تقسیم کے اقدامات کی قانونی حیثیت کی جانچ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے ریکارڈ کی بنیاد پر مغربی بنگال میں دائر اپیلوں کو منظوری دینے کے طریقۂ کار کی بھی جانچ کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔