کولکاتا: مغربی بنگال حکومت 2021 کے اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے پیر میں لگی چوٹ کے مبینہ ’جھوٹے دعووں‘ کی نئے سرے سے جانچ شروع کرے گی۔ وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے ہفتہ کو یہ بات کہی۔ ریاستی سکریٹریٹ ’نبنّ‘ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادھیکاری نے الزام لگایا کہ ممتا بنرجی نے انتخابی مہم کے دوران اپنی چوٹ کا ڈرامہ کیا تھا۔ انہوں نے بنگور انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنس کی جانب سے جاری ممتا بنرجی کی میڈیکل رپورٹ دکھاتے ہوئے کہا، ’’ممتا بنرجی نے 2021 میں نندی گرام میں انتخابی مہم کے دوران پیر میں چوٹ لگنے کا ڈرامہ کیا تھا۔
ہمارے پاس میڈیکل رپورٹ ہے، جس میں فریکچر یا ہڈی کے کھسکنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ہم اس معاملے کی جانچ شروع کریں گے۔‘‘ ادھیکاری نے کہا کہ ان کے جھوٹے الزام سے نندی گرام کے لوگوں کی توہین ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 9 اکتوبر کے بعد مثالی ضابطۂ اخلاق ختم ہونے پر وہ اس معاملے میں مزید معلومات سامنے رکھیں گے۔ نندی گرام میں 6 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہونا ہے اور اس کے نتائج 9 اکتوبر کو اعلان کیے جائیں گے۔ ادھیکاری نے اس سے قبل نندی گرام-2 ترقیاتی بلاک کے بیرولیا بازار میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بھی یہ دعویٰ کیا تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پانچ سال قبل ممتا بنرجی زخمی ہوئی تھیں۔ 10 مارچ 2021 کو انتخابی مہم کے دوران نندی گرام کے بیرولیا علاقے کے ریاپاڑہ میں ممتا بنرجی کے بائیں پیر اور کمر میں چوٹ لگی تھی۔ ممتا بنرجی نے ابتدا میں کہا تھا کہ کچھ نامعلوم لوگوں نے جان بوجھ کر انہیں ان کی گاڑی کے دروازے کی جانب دھکا دیا، جس سے دروازہ ان کے بائیں پیر سے زور سے ٹکرایا اور بھیڑ کے درمیان ان کا پیر زخمی ہوگیا۔ بعد میں اسپتال سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں ممتا بنرجی نے بتایا تھا کہ حامیوں کا استقبال کرتے وقت بڑی تعداد میں لوگ ان کی گاڑی کے قریب آگئے تھے، جس سے ان کا پیر دب گیا اور انہیں چوٹ لگی۔
اس وقت سرکاری طور پر بتایا گیا تھا کہ ان کے بائیں ٹخنے اور پیر کی ہڈیوں میں شدید چوٹ آئی تھی، جبکہ دائیں کندھے، ہاتھ، گردن اور کمر میں بھی چوٹ اور درد کی شکایت تھی۔ اس کے بعد انہیں کولکاتا لایا گیا اور سرکاری ایس ایس کے ایم اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ تفصیلی جانچ کے بعد ممتا بنرجی کو 12 مارچ کو اسپتال سے چھٹی دی گئی تھی۔ اس وقت ان کے بائیں پیر پر پلاسٹر لگا ہوا تھا اور بعد میں انہوں نے وہیل چیئر پر بیٹھ کر انتخابی مہم جاری رکھی۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس نے 294 میں سے 216 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی کو 77 نشستوں پر کامیابی ملی تھی۔