سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 151ویں یومِ پیدائش پر حکومت کا ’یوگا فار یونٹی‘ پیغام، اتحاد اور ہم آہنگی پر زور

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 31-10-2026
سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 151ویں یومِ پیدائش پر حکومت کا ’یوگا فار یونٹی‘ پیغام، اتحاد اور ہم آہنگی پر زور
سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 151ویں یومِ پیدائش پر حکومت کا ’یوگا فار یونٹی‘ پیغام، اتحاد اور ہم آہنگی پر زور

 



نئی دہلی: سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 151ویں یومِ پیدائش کے موقع پر آیوش کی وزارت یوگا کے ذریعے سماجی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور اجتماعی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے ’یوگا فار یونٹی‘ یعنی اتحاد کے لیے یوگا کا پیغام عام کر رہی ہے۔ یہ پہل وزارت کی ’یوگا 365‘ مہم کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو روزمرہ زندگی میں یوگا کو شامل کرنے کی ترغیب دینا اور صحت کے معاملے میں باہمی اتحاد اور مشترکہ ذمہ داری کے جذبے کو مضبوط بنانا ہے۔

آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) پرتاپراؤ جادھو نے کہا کہ یوگا عمر، علاقے اور سماجی پس منظر کے فرق سے بالاتر ہوکر لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے اور جسمانی و ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ ایک بیان کے مطابق، انہوں نے کہا، ’’سردار ولبھ بھائی پٹیل نے اپنے وژن اور عزم کے ذریعے ملک کو متحد کیا تھا۔ قومی یومِ اتحاد کے موقع پر ہمیں اجتماعی کوششوں کے ذریعے ان کے اتحاد کے پیغام کو آگے بڑھانا چاہیے۔‘

‘ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یومِ پیدائش کو قومی یومِ اتحاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ جادھو نے مزید کہا کہ ’یوگا فار یونٹی‘ اور ’یوگا 365‘ کے ذریعے حکومت ہر شہری کو روزانہ یوگا کرنے کی ترغیب دے رہی ہے، تاکہ ایک صحت مند اور زیادہ متحد ہندوستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا جاسکے۔ آیوش کے سکریٹری ویدیہ راجیش کوٹیچا نے کہا کہ یوگا جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے کا ایک آسان اور قابلِ رسائی طریقہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ افراد اور مختلف برادریوں کے درمیان آپسی تعلق اور قربت کا احساس بھی پیدا کرتا ہے۔

’یوگا 365‘ مہم کے تحت وزارت کے ماتحت یوگا اور نیچروپیتھی کے اداروں کو مختلف سرگرمیاں منعقد کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ان میں کمیونٹی کی سطح پر پروگرام اور بیداری مہمات شامل ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ یوگا کی مشق کریں اور اس میں عوام کی شرکت بڑھے۔ اس مہم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یوگا کو کسی خاص دن یا موقع تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے روزمرہ زندگی کا مستقل معمول بنانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف انفرادی صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ سماجی تعلقات اور باہمی اتحاد بھی مضبوط ہوتے ہیں۔