وزیر اعظم نریندر مودی نے اشوک سنگھل کی صد سالہ یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
وزیر اعظم نریندر مودی نے اشوک سنگھل کی صد سالہ یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
وزیر اعظم نریندر مودی نے اشوک سنگھل کی صد سالہ یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا

 



نئی دہلی، 28 ستمبر (اے این آئی): وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کے روز وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سابق بین الاقوامی کارگزار صدر اشوک سنگھل کی صد سالہ یومِ پیدائش کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اشوک سنگھل کی تنظیمی خدمات اور سماجی اتحاد کے لیے ان کی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف رہنے کی بہترین مثال تھی۔  

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے ایک دوہے کے ساتھ اپنے خراجِ عقیدت کا آغاز کیا۔

انہوں نے لکھا، ’’ایک خوب صورت کہاوت ہے:

درخت کبھی اپنا پھل خود نہیں کھاتا اور نہ ہی دریا اپنا پانی اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ یہ دونوں دوسروں کے فائدے کے لیے موجود ہیں۔ ہمارے سنتوں اور رشیوں نے ہمیشہ یہ تعلیم دی ہے کہ دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف زندگی، ذاتی کامیابیوں سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کسی شخصیت میں یہ جذبہ مسلسل نظر آیا تو وہ شری اشوک سنگھل جی تھے۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ 27 ستمبر سے شروع ہونے والی اشوک سنگھل کی صد سالہ تقریبات ایک ایسی شخصیت کو یاد کرنے کا موقع ہیں، جنہوں نے روحانی جستجو، ثقافتی بیداری اور کئی دہائیوں کی مسلسل تنظیمی جدوجہد کو یکجا کیا۔

اشوک سنگھل کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے اشوک جی کے ساتھ بے شمار مرتبہ ملاقات اور گفتگو کرنے اور ان کی شفقت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ان سے میری ابتدائی ملاقاتوں میں سے ایک 1981 کی ہے، جب میں ایک نوجوان کارکن کی حیثیت سے تنظیمی ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا۔ اسی دوران مجھے ان کا ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خط موصول ہوا۔ ظاہر ہے کہ میرے لیے یہ ایک اہم لمحہ تھا۔ انہوں نے ایک اہم آئندہ پروگرام کا ذکر کیا اور مجھے کچھ ذمہ داریاں بھی سونپی تھیں۔‘‘

وزیر اعظم نے مزید لکھا کہ کئی دہائیوں تک انہوں نے اشوک سنگھل کو دن رات کام کرتے دیکھا۔ وہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کا طویل سفر کرتے تھے۔ خاص طور پر گجرات کے قبائلی علاقوں میں جانے کا انہیں بہت شوق تھا۔ وہ مسلسل اس بات پر غور کرتے رہتے تھے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کے لیے مزید کیا کیا جا سکتا ہے۔

مودی کے مطابق، ’’جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی تھی تو اشوک سنگھل یا تو سب سے پہلے وہاں پہنچنے والوں میں شامل ہوتے تھے یا پھر کارکنوں کی رہنمائی کر رہے ہوتے تھے۔ 2001 کے کچھ زلزلے کے بعد ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت میرے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔‘‘

وزیر اعظم نے بتایا کہ اشوک سنگھل کا تعلق ایک انتہائی معزز اور خوش حال خاندان سے تھا۔ ان کے والد ایک ممتاز منتظم تھے، ان کے ایک بھائی پولیس افسر اور رکن پارلیمنٹ بنے، جبکہ دوسرے بھائی تریپورہ کے چیف سکریٹری کے عہدے پر فائز رہے۔

مودی نے کہا، ’’لیکن اشوک جی بچپن ہی سے کسی اور مقصد کی طرف راغب تھے۔ ان کا خواب بھارت کی عظمت کی بحالی اور مادرِ وطن کے بچوں کو وقار و سربلندی عطا کرنا تھا۔‘‘

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ اشوک سنگھل کی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ملنے والی ہر ذمہ داری کو جوش، نظم و ضبط اور فرض شناسی کے ساتھ قبول کیا۔

انہوں نے مزید کہا، ’’شری اشوک سنگھل جی نے اپنی مسلسل محنت اور لگن سے کئی اداروں اور تحریکوں کی پرورش کی۔ انہیں ایک طاقتور آواز اور خطابت کی غیر معمولی صلاحیت حاصل تھی، جس سے وہ پورے مجمع کو مسحور کر دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھی کارکنوں کے تئیں ان کی محبت اور خیال رکھنا بھی قابلِ ذکر تھا۔‘‘

وزیر اعظم نے 1993 میں امریکہ میں منعقدہ وشو ہندو پریشد کے کنونشن کا بھی ذکر کیا، جو سوامی وویکانند کی شکاگو تقریر کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد ہوا تھا۔ مودی کے مطابق، اس کنونشن نے اشوک سنگھل کی غیر معمولی تنظیمی صلاحیتوں کو نمایاں کیا تھا۔

انہوں نے 2000 میں ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کے شہر پورٹ آف اسپین میں منعقدہ عالمی ہندو کانفرنس کو بھی یاد کیا۔

مودی نے کہا، ’’میں نے خود دیکھا کہ اشوک جی کی موجودگی سے دیگر مندوبین میں کتنا جوش و جذبہ پیدا ہوتا تھا۔ اپنی تقریر کے بعد جب انہوں نے میری تعریف کی تو وہ میرے لیے ایک انتہائی جذباتی اور یادگار لمحہ تھا۔‘‘

وزیر اعظم نے کہا کہ رام جنم بھومی تحریک میں اشوک سنگھل کے اہم کردار کا ذکر کیے بغیر ان کی شخصیت کا مکمل تعارف ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے 1991 میں بوٹ کلب ریلی میں اشوک سنگھل کی تقریر اور رام جنم بھومی تحریک کے دوران ان کے کردار کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’’آج اگر ایودھیا میں ایک عظیم الشان رام مندر موجود ہے تو اس کی وجہ اشوک سنگھل جی جیسی عظیم شخصیات ہیں، جنہوں نے اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے بے لوث ہوکر اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ اگر وہ آج ایودھیا میں رام مندر کو تعمیر ہوتے دیکھتے تو یقیناً سب سے زیادہ خوش ہوتے۔‘‘

وزیر اعظم مودی نے سماجی اتحاد اور مساوات کے لیے اشوک سنگھل کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ اشوک سنگھل اس بات پر پختہ یقین رکھتے تھے کہ معاشرے میں کسی بھی قسم کی تفریق نہیں ہونی چاہیے اور ہر فرد عزت و احترام کا یکساں حق دار ہے۔

مودی نے بتایا کہ اشوک سنگھل کی خواہش تھی کہ ایودھیا میں رام مندر کی پہلی اینٹ شری کامیشور چوپال رکھیں، جو بہار سے تعلق رکھنے والے وشو ہندو پریشد کے ایک کارکن تھے اور معاشرے کے محروم طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

 

وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ کاشی میں منعقدہ دھرم سنسد کے دوران اشوک سنگھل نے ڈوم راجا کو اعزاز دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بعد مختلف سماجی سرگرمیوں میں ان کے ساتھ کام بھی کیا۔

اشوک سنگھل کی تعلیمی سرگرمیوں، خصوصاً ویدک تعلیم اور موسیقی سے ان کی دلچسپی کا بھی وزیر اعظم نے ذکر کیا۔

انہوں نے کہا، ’’وارانسی سے رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے مجھے فخر ہے کہ جس قدیم اور مقدس شہر کاشی کی میں نمائندگی کرتا ہوں، اس نے شری اشوک سنگھل جی کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔‘‘

مودی نے بتایا کہ اشوک سنگھل نے بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) سے تعلیم حاصل کی تھی اور وہ ایکل ودیالیہ کی تحریک سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے۔

اشوک سنگھل کی موسیقی کی صلاحیتوں کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ ناگپور میں ہونے والی ملاقاتوں کے دوران وہ اکثر ایکل گیت گایا کرتے تھے۔

انہوں نے 2015 میں اشوک سنگھل کی 90ویں سالگرہ کے موقع پر ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کا بھی ذکر کیا، جس میں وہ ’’ہے ماتر بھومی میری، ہے پتر بھومی میری‘‘ گاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’ان کی صد سالہ یومِ پیدائش کے موقع پر ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان ان کی عظمت اور خدمات کے بارے میں جانیں۔ اس کے ساتھ ہی ہمیں اپنے ملک اور عوام کے لیے ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے عزم کی تجدید کرنی چاہیے۔‘‘

اس سے قبل اتوار کے روز وزیر اعظم مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں قسط میں بھی اشوک سنگھل کو خراجِ عقیدت پیش کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے رام جنم بھومی تحریک میں ان کے اہم کردار اور ان کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کا ذکر کیا تھا۔

وزیر اعظم نے سماجی امتیاز اور عدم مساوات کے خلاف اشوک سنگھل کی کوششوں کو بھی یاد کیا اور کہا کہ ایک خوش حال خاندان میں پیدا ہونے کے باوجود انہوں نے آرام و آسائش کی زندگی ترک کر دی تھی۔

اشوک سنگھل کی صد سالہ تقریبات کا افتتاح اتوار کے روز نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کیا گیا۔ اس تقریب کا اہتمام وشو ہندو پریشد اور اشوک سنگھل فاؤنڈیشن نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے اور انہوں نے بھی اشوک سنگھل کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر اشوک سنگھل کی زندگی، نظریات اور ہندوستانی ثقافت، روحانی بیداری، ہندو سماج کی تنظیم اور رام جنم بھومی تحریک کے لیے ان کی خدمات کو یاد کیا گیا۔

جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، اس تقریب میں اشوک سنگھل کی زندگی، ان کے افکار اور ملک و معاشرے کے لیے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔