یکساں سول کوڈ کی کمیٹی سے سابق جج آر سی چوہان مستعفی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 22-09-2026
یکساں سول کوڈ کی کمیٹی سے سابق جج آر سی چوہان مستعفی
یکساں سول کوڈ کی کمیٹی سے سابق جج آر سی چوہان مستعفی

 



ممبئی: مہاراشٹر حکومت کی جانب سے یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کے لیے مسودہ تیار کرنے والی کمیٹی کے رکن اور سابق ہائی کورٹ جج جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کمیٹی کے کام کرنے کے طریقے اور ریاست سے باہر کے ایک افسر کی کمیٹی کے کام میں شمولیت سمیت کئی امور پر اختلافات کا حوالہ دیا ہے۔ جسٹس چوہان نے 19 ستمبر کو کمیٹی سے استعفیٰ دیا۔ جولائی میں مہاراشٹر حکومت نے سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی کو یو سی سی کے نفاذ کے لیے قانونی اور انتظامی خاکہ تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

یو سی سی کا مقصد شادی، طلاق اور جائیداد جیسے معاملات میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے یکساں قوانین کا فریم ورک تیار کرنا ہے۔ اپنے استعفیٰ خط میں جسٹس چوہان نے کمیٹی کے کام کرنے کے انداز پر کئی اعتراضات اٹھائے۔ ان کا الزام ہے کہ کمیٹی کی میٹنگیں کئی مرتبہ کسی تفصیلی یا بامعنی بحث کے بغیر ہی ختم کر دی گئیں۔ ان کے مطابق میٹنگ کے ایجنڈے میں شامل کارروائی کی توثیق، ویب سائٹ میں تبدیلی اور سوالنامے کو حتمی شکل دینے جیسے معاملات چیئرپرسن کی ہدایت پر تیزی سے نمٹا دیے گئے۔ جسٹس چوہان نے کہا کہ بعض ارکان کی جانب سے سوالنامے کے حوالے سے تجاویز بھی زیر غور نہیں لائی گئیں۔

ان تجاویز میں عوام سے دیر سے شادی، بانجھ پن، غیر مستحکم ازدواجی زندگی اور تنازعات کے حل جیسے معاملات پر تفصیلی رائے حاصل کرنے کے لیے سوالات شامل کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ان کے مطابق چیئرپرسن کی جانب سے پہلے ہی ایک سوالنامہ حتمی شکل دے کر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کے لیے بھیجا جا چکا تھا۔ سابق جج نے کمیٹی کے کام میں ریاست سے باہر کے ایک افسر کی شمولیت پر بھی سوال اٹھایا۔

انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ اس سے یہ تاثر پیدا ہو سکتا ہے کہ ’’مہاراشٹر کے افسر شاید خود کو اس کام کے لیے اہل نہیں سمجھتے، اسی لیے کسی دوسری ریاست کے افسر کو بلانا پڑا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے اس افسر کو کمیٹی کے کام میں مناسب طور پر شامل کرنے کے معاملے میں بھی مسئلہ پیدا ہوا ہو۔ جسٹس چوہان نے لکھا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ کمیٹی سے اپنی نشست خالی کر رہے ہیں تاکہ حکومت جلد از جلد اس جگہ کسی دوسرے شخص کو مقرر کر سکے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی میں کام کرنا ان کے لیے ایک سیکھنے کا تجربہ رہا اور انہوں نے کمیٹی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے 9 جولائی کو یو سی سی کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ کمیٹی کو چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ اس دوران اسے یو سی سی کے قانونی، سماجی، ثقافتی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینا، دیگر ریاستوں کے تجربات کا مطالعہ کرنا اور ایک جامع رپورٹ پیش کرنا ہے۔

کمیٹی خاص طور پر اتراکھنڈ جیسے ریاستوں کے تجربات کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جہاں یو سی سی پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان میں سابق ہائی کورٹ جج ایس جی مہیرے، مہاراشٹر کے سابق چیف سکریٹری ڈی کے جین، سابق ایڈووکیٹ جنرل ویریندر صراف، آئینی امور کے ماہر رمیش پٹانگے اور ماہر تعلیم سورنا راول شامل ہیں۔

گزشتہ ہفتے وزیر اعلیٰ فڑنویس نے کہا تھا کہ کمیٹی کی جانب سے یو سی سی کا مسودہ اور سفارشات پیش کیے جانے کے بعد ریاستی حکومت اسے نافذ کرے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کمیٹی اپنی سفارشات پر کام کر رہی ہے اور حکومت کا مقصد ناگپور میں ہونے والے اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران اس سلسلے میں قانون سازی پیش کرنا ہے۔

دوسری طرف این سی پی کے رکن قانون ساز کونسل ادریس نائیک واڑی نے کمیٹی کی تشکیل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں اقلیتی برادریوں کی نمائندگی نہیں ہے۔ قومی سطح پر بھی یو سی سی پر سیاسی بحث جاری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے 13 ستمبر کو کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومتیں 2029 سے پہلے 21 ریاستوں میں یو سی سی نافذ کرنے کے لیے قانون لائیں گی۔ اگلے لوک سبھا انتخابات 2029 میں ہونے ہیں۔