نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ عصمت دری کی وجہ سے حاملہ ہونے والی متاثرہ کو اس کی مرضی کے بغیر ماں بننے کی ذمہ داری اٹھانے پر مجبور کرنا، اس کے باوقار زندگی گزارنے کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ عدالت نے یہ بات 15 سالہ عصمت دری متاثرہ کی اس عرضی کو منظور کرتے ہوئے کہی، جس میں اس نے 30 ہفتے کے حمل کو ختم کرنے کی اجازت مانگی تھی۔
میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگنینسی (ایم ٹی پی) ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت مخصوص زمروں میں آنے والی خواتین کو قانونی شرائط پوری ہونے کی صورت میں 20 سے 24 ہفتے تک کے حمل کو ختم کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ جسٹس مدھو جین نے اسے ایک افسوسناک اور دردناک معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حمل کی قانونی مدت گزر جانے کی حقیقت کو متاثرہ کے دیگر حقوق سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
عدالت نے 8 ستمبر کے اپنے حکم میں کہا، ’’جنسی زیادتی کے معاملات میں متاثرہ کو زیادتی کے نتیجے میں ٹھہرے حمل کو جاری رکھنے پر مجبور کرنا اور اس طرح اس کی مرضی کے بغیر اس پر زچگی کی ذمہ داری ڈالنا، اس کے باوقار زندگی گزارنے کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔‘‘ فیصلے میں کہا گیا کہ اپنے جسم کے بارے میں فیصلہ کرنے کے عورت کے حق میں یہ اختیار بھی شامل ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ وہ ماں بننا چاہتی ہے یا نہیں۔
عدالت نے کہا کہ جنسی حملے کی شکار خاتون کو اس جرم کے نتیجے میں ٹھہرے حمل کی وجہ سے بچے کو جنم دینے پر مجبور کرنے سے اسے طویل مدتی جسمانی اور ذہنی صدمے سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ جج نے کہا کہ اگرچہ حمل کی مدت زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ طبی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن صرف اس بنیاد پر نابالغ کو اپنے جسم پر اختیار، وقار اور بچے کو جنم دینے سے متعلق فیصلہ کرنے کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے ساتھ ہی کہا کہ کسی بھی طبی عمل سے قبل خاتون کی جسمانی حالت اور طبی امکانات کا جائزہ لینا اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا لازمی ہے۔ جسٹس جین نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 226 یا 32 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اور ایم ٹی پی ایکٹ کے قانونی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت کو نابالغ متاثرہ کے مفاد اور بہبود کو مناسب ترجیح دینی چاہیے۔
عدالت نے کہا کہ ایسے معاملات ’’گہری تکلیف‘‘ کا احساس چھوڑ جاتے ہیں۔ اس نے اس حقیقت کا بھی نوٹس لیا کہ عرضی گزار صرف 15 سال کی بچی ہے، جو پہلے ہی ایک خوفناک جنسی حملے کا صدمہ برداشت کر چکی ہے، جبکہ اس کی مشکلات اس لیے مزید بڑھ گئی ہیں کہ وہ اپنے دونوں والدین کو کھو چکی ہے۔ عدالت نے کہا کہ جس عمر میں بچے کو تحفظ اور دیکھ بھال ملنی چاہیے اور محفوظ و باعزت ماحول میں پرورش کا موقع ملنا چاہیے، اس عمر میں اسے ایسے حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جن کا سامنا کسی بچے کو کبھی نہیں کرنا چاہیے۔
جسٹس جین نے کہا، ’’اس عدالت کی نظر میں 15 سال کی بچی کو صرف اس لیے ’ماں‘ نہیں کہا جا سکتا کہ جنسی تشدد کے نتیجے میں اسے حاملہ ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔‘‘ عدالت نے عرضی منظور کرتے ہوئے لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج اور ایس کے اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ وہ بچی کا حمل جلد از جلد ختم کرنے کا انتظام کریں اور اس عمل کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ عدالت نے ڈاکٹروں کو یہ بھی ہدایت دی کہ عصمت دری کے معاملے میں درج ایف آئی آر کے سلسلے میں ڈی این اے شناخت اور دیگر قانونی کارروائی کے لیے ٹشوز یا جنین کے حصے کو محفوظ رکھا جائے۔
بنچ نے حکومت کو حمل ختم کرنے سے متعلق تمام اخراجات برداشت کرنے کی ہدایت دی، جن میں طبی عمل، ادویات، جانچ، اسپتال میں داخلہ، کھانا اور علاج سے متعلق دیگر ضروریات شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر طبی عمل کے دوران بچہ زندہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی طبی دیکھ بھال کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور چائلڈ ویلفیئر کمیٹی قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے۔