جدید جینیاتی ٹیسٹ اور کینسر کی مخصوص تھراپی کے لیے پانچ سالہ پالیسی ایجنڈا درکار

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 26-09-2026
جدید جینیاتی ٹیسٹ اور کینسر کی مخصوص تھراپی کے لیے پانچ سالہ پالیسی ایجنڈا درکار
جدید جینیاتی ٹیسٹ اور کینسر کی مخصوص تھراپی کے لیے پانچ سالہ پالیسی ایجنڈا درکار

 



رائے پور: ہندوستان کو جدید جینیاتی جانچ اور کینسر کے لیے مخصوص علاج کو کم آمدنی والے مریضوں تک پہنچانے کے لیے پانچ سالہ پالیسی ایجنڈا تیار کرنا چاہیے۔ معروف آنکولوجسٹ ڈاکٹر بھاونا سیروہی نے ہفتہ کو یہ بات کہی۔ پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سیروہی نے کہا کہ پریسیژن آنکولوجی یعنی مریض کے کینسر کی مخصوص حیاتیاتی خصوصیات کی بنیاد پر علاج کا انتخاب، کینسر کے علاج میں بڑی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، زیادہ اخراجات، جدید جینیاتی ٹیسٹ تک محدود رسائی اور مہنگی دواؤں کی دستیابی ملک میں اب بھی بڑے چیلنج ہیں۔ ڈاکٹر بھاونا سیروہی رائے پور کے ویدانتا میڈیکل ریسرچ فاؤنڈیشن۔ بالکو میڈیکل سینٹر میں کنسلٹنٹ میڈیکل آنکولوجسٹ اور میڈیکل ڈائریکٹر ہیں۔ وہ پریسیژن کینسر سے متعلق نئی ’لینسیٹ آنکولوجی کمیشن‘ میں ہندوستان کی واحد کینسر ماہر ہیں۔

اس کمیشن کا آغاز جمعہ کو ہانگ کانگ میں منعقدہ ورلڈ کینسر کانگریس میں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ روایتی کیموتھراپی میں اکثر کینسر کے خلیوں کے ساتھ ساتھ صحت مند خلیے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ پریسیژن ٹریٹمنٹ کا مقصد کینسر کے خلیوں میں موجود کسی مخصوص ہدف یا بایومارکر کی شناخت کرکے اس کے مطابق دوا کا انتخاب کرنا ہے۔ ڈاکٹر سیروہی کے مطابق پریسیژن آنکولوجی کے ذریعے ڈاکٹر یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ کسی کینسر کو بڑھانے والے حیاتیاتی عوامل کیا ہیں اور پھر اسی بنیاد پر علاج کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ہر مریض کے لیے علاج کو زیادہ مخصوص بنایا جا سکتا ہے، نتائج بہتر ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں اور غیر ضروری مضر اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، مالیکیولر ٹیسٹنگ اور نیکسٹ جنریشن سیکوینسنگ (این جی ایس) خود بھی مہنگے ہو سکتے ہیں۔ ان ٹیسٹوں کی بنیاد پر تجویز کی جانے والی کچھ دوائیں ہندوستان میں دستیاب نہیں ہوتیں یا زیادہ تر مریضوں، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں کے لیے ان کی قیمت برداشت کرنا مشکل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکولوجسٹ کے سامنے یہ مشکل بھی ہوتی ہے کہ وہ ایسے مہنگے علاج کے بارے میں مریض کو بتائیں یا نہیں، جنہیں زیادہ تر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کے مریض برداشت نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر سیروہی نے کہا، ’’لینسیٹ آنکولوجی کمیشن میں ہم عالمی صورتحال پر بات کرتے ہیں، لیکن ہندوستان اور دوسرے کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اس بات کا خطرہ ہے کہ اس سے دنیا میں صحت کا ایسا مستقل دو سطحی نظام مزید گہرا ہو جائے، جس میں مریضوں کو غیر مساوی طبی سہولتیں حاصل ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پریسیژن آنکولوجی کی کامیابی پھیپھڑوں کے کینسر میں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہے۔ ایسے مریض جن میں ای جی ایف آر جین میں مخصوص تبدیلیاں پائی جاتی ہیں، انہیں روایتی کیموتھراپی کے بجائے برسوں تک مخصوص ٹیبلیٹس کے ذریعے علاج فراہم کیا جا سکتا ہے۔

ان کے بقول، ’’پھیپھڑوں کا کینسر اب صرف ایک قسم کا کینسر نہیں رہا بلکہ اس کی کئی مختلف اقسام ہیں اور ہر قسم کے لیے مخصوص ٹارگٹڈ تھراپی استعمال کی جا سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ایسا علاج آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت دستیاب ہے، تاہم نئی اور زیادہ مؤثر دوائیں اب بھی زیادہ تر اپنی قیمت کی وجہ سے عام مریضوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ڈاکٹر سیروہی نے کہا کہ ہندوستان میں تمام اقسام کے کینسر کو پریسیژن ٹریٹمنٹ سے فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ اسے ہر مریض تک کس طرح پہنچایا جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ جینیاتی اور مالیکیولر تشخیصی ٹیسٹوں کو سرکاری صحت اسکیموں میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، ’’کم آمدنی والے مریضوں کے لیے آیوشمان بھارت جیسی صحت اسکیموں میں جینیاتی تشخیصی پینل کو شامل کرنا انتہائی اہم ہے۔‘‘ ڈاکٹر سیروہی نے محکمہ صحت تحقیق اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی حمایت سے چلنے والے ڈی آئی اے ایم اون ڈی ایس (DIAMOnDS) منصوبے کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد جدید مالیکیولر آنکولوجی تشخیصی خدمات کو مضبوط بنانا اور مفت تشخیصی سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی شروعات ہے، لیکن فی الحال اس منصوبے کی توجہ بنیادی طور پر پھیپھڑوں اور چھاتی کے کینسر کے مخصوص مارکرز اور بعض خون کے کینسر تک محدود ہے۔ نامزد علاقائی لیبارٹریوں میں بڑی حد تک ریئل ٹائم پی سی آر، امیونو ہسٹو کیمسٹری اور فلوروسنس اِن سیٹو ہائبرڈائزیشن جیسی تکنیکیں استعمال کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جدید جینیاتی ٹیسٹ تو کرائے جائیں لیکن ان ٹیسٹوں کے نتیجے میں تجویز کی جانے والی دوائیں مریض کو دستیاب نہ ہوں تو اس سے مریض پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ ڈاکٹر سیروہی نے نئی دواؤں اور ٹیکنالوجی سے متعلق باقاعدگی سے ہیلتھ ٹیکنالوجی اسیسمنٹ کرنے، واضح رہنما اصول نافذ کرنے اور جینیاتی ماہرین، مالیکیولر پیتھالوجسٹ اور بایوانفارمیٹیشن ماہرین کی تعداد بڑھانے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کو پریسیژن کینسر کیئر فراہم کرنے کے لیے پانچ سالہ ایجنڈا درکار ہے۔ اس میں ٹیسٹوں اور ٹیکنالوجی کے فوائد اور نقصانات کا واضح جائزہ ہونا چاہیے۔ جن سہولتوں کو سب کے لیے دستیاب کرنا ہے، انہیں عالمی اور قومی سطح کے ہم مرتبہ ماہرین کے جائزے کے معیار پر پورا اترنا اور باقاعدہ طور پر جانچا جانا چاہیے۔

‘‘ ڈاکٹر سیروہی نے ہندوستانی آبادی میں کینسر کی حیاتیات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ٹیومر، ٹشو، خون، لعاب اور پاخانے کے نمونوں کے بایوبینک بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ چھتیس گڑھ میں کینسر کے علاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ریاست کی بڑی دیہی اور قبائلی آبادی کو غربت، طویل فاصلے کا سفر، بڑے شہروں کے اسپتالوں کے بارے میں عدم اعتماد اور خصوصی طبی سہولتوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔