آندھرا پردیش کے ساحل پر کشتی الٹنے سے 7 ماہی گیروں کی موت

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 06-11-2026
آندھرا پردیش کے ساحل پر کشتی الٹنے سے 7 ماہی گیروں کی موت
آندھرا پردیش کے ساحل پر کشتی الٹنے سے 7 ماہی گیروں کی موت

 



امراوتی، : آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب حالیہ شدید سمندری طوفان ’مرسو‘ کے باعث کشتی الٹنے کے حادثے میں لاپتہ ہونے والے تمل ناڈو کے 9 ماہی گیروں میں سے 7 کی موت ہو گئی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ نائیڈو نے طوفان مرسو کے دوران خراب موسم کے باعث 7 ماہی گیروں کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ باقی 2 لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش کا کام تیز کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ کے دفتر سے جاری ایک سرکاری بیان میں ان کے حوالے سے کہا گیا، ’’شدید سمندری طوفان مرسو کے باعث خراب موسم کے دوران آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب پیش آنے والے کشتی حادثے میں تمل ناڈو کے 7 ماہی گیروں کی جان چلی گئی ہے۔ ہم نے حکام کو باقی 2 لاپتہ ماہی گیروں کا سراغ لگانے کے لیے تلاش کی مہم تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔‘‘ وزیر اعلیٰ نے حکام سے حادثے اور جاری راحت و بچاؤ کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات بھی حاصل کیں۔

حکام نے نائیڈو کو بتایا کہ گزشتہ 3 دن سے تلاش کی مہم جاری ہے اور حادثے کا شکار کشتی بہہ کر پرکاشم ضلع کے کوتھاپٹنم ساحل پر پہنچ گئی تھی۔ کشتی پر سوار 9 ماہی گیروں میں سے 7 کی موت ہو چکی ہے، جب کہ 2 اب بھی لاپتہ ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، جمعرات کو 5 لاشیں برآمد کی گئی تھیں، جب کہ جمعہ کو مزید 2 لاشیں ملیں۔ حکام نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے ماہی گیروں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ضروری امدادی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نائیڈو نے کوسٹ گارڈ، میرین پولیس، مقامی ماہی گیروں اور متعلقہ محکموں کو باہمی تال میل کے ساتھ تلاش کی مہم چلانے اور لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور پوسٹ مارٹم کے عمل میں تیزی لانے کے ساتھ ساتھ لاشیں بلا تاخیر ان کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کی بھی ہدایت کی۔ چونکہ تمام ماہی گیر تمل ناڈو کے رہنے والے تھے، اس لیے وزیر اعلیٰ نے حکام سے کہا کہ وہ پڑوسی ریاست کے افسران کے ساتھ رابطہ قائم کریں اور لاشوں کو ان کے آبائی علاقوں تک پہنچانے کا انتظام کریں۔

حکام کے مطابق، چنئی کے کم از کم 9 ماہی گیر اس گروپ میں شامل تھے جس کی کشتیاں طوفان مرسو کے آنے سے پہلے آندھرا پردیش کی بندرگاہوں پر پناہ لیے ہوئے تھیں۔ طوفان منگل کو اونگول کے قریب نیلور اور نرساپور کے درمیان ساحل سے ٹکرایا تھا۔ گروپ کی 3 کشتیاں رامیا پٹنم اور ایک نظام پٹنم میں لنگر انداز تھی۔ 3 نومبر کو نظام پٹنم میں موجود کشتی پر سوار 9 ماہی گیر دونوں ریاستوں کے حکام کو اطلاع دیے بغیر اپنے ساتھیوں کے پاس رامیا پٹنم جانے کے لیے روانہ ہو گئے۔ اسی دوران تیز ہواؤں کے باعث ان کی کشتی سمندر میں الٹ گئی۔