نئی دہلی:: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال کی مدت کار مکمل ہونے پر ادارے کے صدر دفتر نئی دہلی میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر کونسل کے افسران اور عملے نے انہیں گلدستہ اور تحفہ پیش کیا اور ادارے کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائرکٹر (ایڈمن) محمد احمد نے کہا کہ کسی بھی ملازم کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ جس ادارے سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرے اسی ادارے کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہونے کے بعد سبکدوش بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شمس اقبال اس اعتبار سے مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک) ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی نے ڈاکٹر شمس اقبال کی کارکردگی کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادب اطفال کے فروغ۔ نئی نسل کی حوصلہ افزائی۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور کتاب کلچر کو آگے بڑھانے میں ان کی کوششیں قابل ذکر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادارے کے انتظامی نظام کو بہتر بنانے اور جامع منصوبہ بندی کے سلسلے میں بھی ڈاکٹر شمس اقبال نے اہم کردار ادا کیا۔

سینئر ریسرچ آفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ نے کہا کہ کسی بھی ادارے کی سرگرمیوں اور کارکردگی کا انحصار اس کے سربراہ کی فعالیت پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر شمس اقبال کے دور میں قومی اردو کونسل نے مختلف شعبوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فعال ادارے میں اتفاق اور اختلاف کی صورتیں پیدا ہونا فطری ہے اور کونسل میں بھی ایسا دیکھنے کو ملا۔ اس کے باوجود ادارے کا متحرک رہنا خوش آئند ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر شمس اقبال نے کونسل کے تمام افسران اور ملازمین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ جس ادارے سے انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا تھا اسی ادارے سے وہ اپنے سفر کا اختتام بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے عملے کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک فعال اور معاون ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جو ان کے لیے خوش بختی کی بات ہے۔ انہوں نے مستقبل میں بھی قومی اردو کونسل کی ترقی اور کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
الوداعی تقریب میں قومی اردو کونسل کے مختلف افسران اور دیگر ملازمین بھی موجود تھے۔