نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بدھ کو کہا کہ سرکاری غور و خوض کے دوران تینوں الیکشن کمشنروں کی جانب سے الگ الگ خیالات کا اظہار کیے جانے سے متعلق رپورٹیں الیکشن کمیشن کے جمہوری انداز میں کام کرنے کی عکاسی کرتی ہیں۔ حکمراں پارٹی نے کہا کہ یہ رپورٹیں اپوزیشن جماعتوں کے ان الزامات کو بھی غلط ثابت کرتی ہیں کہ الیکشن کمیشن ’’آمرانہ‘‘ انداز میں کام کر رہا ہے۔
بی جے پی کا یہ ردعمل اس میڈیا رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ملک بھر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مختلف ریاستوں میں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے سمیت کئی معاملات پر تشویش ظاہر کی تھی۔
بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’’سرکاری غور و خوض کے دوران الیکشن کمشنروں کے الگ الگ خیالات کے اظہار سے متعلق رپورٹیں سچی جمہوریت کی عکاسی کرتی ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اگر انتخابات کرانے والے الیکشن کمشنروں کے درمیان کوئی بات چیت اور خیالات کا تبادلہ نہ ہو تو اپوزیشن جماعتیں ان پر ’آمریت‘ کا الزام لگائیں گی اور انہیں حکومت کی ’ہاں میں ہاں ملانے والا‘ قرار دیں گی۔
‘‘ پاترا نے کہا کہ اس معاملے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ تو الیکشن کمیشن اور نہ ہی ہندوستان کا کوئی دوسرا آئینی ادارہ ’’آمرانہ نظام‘‘ کے تحت کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اور دیگر تمام آئینی ادارے جمہوری طریقے سے کام کر رہے ہیں اور ملک کی جمہوریت کو برقرار رکھ رہے ہیں۔‘‘ پاترا نے اپوزیشن جماعتوں پر الیکشن کمیشن اور حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا، ’’الیکشن کمیشن اور حکومت کو آمر قرار دینے والی اپوزیشن جماعتیں آج خود اپنے ہی جال میں پھنس گئی ہیں۔‘‘