نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے بدھ کو کہا کہ یورپی ممالک اب ہندوستان کو جدت اور مینوفیکچرنگ کے ایک بڑے مرکز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ویشنو نے کہا کہ نئی کمپنیاں ہندوستان آ رہی ہیں اور ملک کو اپنی پیداوار، مینوفیکچرنگ، ڈیزائن اور تحقیق کے مراکز کے طور پر ترقی دے رہی ہیں۔
انہوں نے یہاں ہندوستان-ای ایف ٹی اے خوشحالی سربراہ کانفرنس سے الگ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ای ایف ٹی اے معاہدے کے ذریعے تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار لوگوں کو روزگار ملا ہے۔ ہندوستان-ای ایف ٹی اے (یورپی آزاد تجارتی انجمن) تجارت و اقتصادی شراکت داری معاہدہ (ٹیپا) یکم اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا۔ ای ایف ٹی اے کے چار رکن ممالک آئس لینڈ، لِکٹن اسٹائن، ناروے اور سوئٹزرلینڈ ہیں۔
ویشنو نے کہا، ’’یورپی ممالک ہندوستان کو جدت اور مینوفیکچرنگ کے ایک بڑے مرکز کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ دو دن سے دوسری ہندوستان-یورپی آزاد تجارتی انجمن (ای ایف ٹی اے) خوشحالی سربراہ کانفرنس جاری ہے۔ اس میں دونوں فریقوں کے کاروباری نمائندوں کے ساتھ ساتھ دونوں جانب کے وزرا کے درمیان بھی انتہائی مفید بات چیت ہوئی ہے۔‘‘