کوآپریٹو نظام سے خواتین کو بااختیار بنانا بڑا مقصد: شاہ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 26-09-2026
کوآپریٹو نظام سے خواتین کو بااختیار بنانا بڑا مقصد: شاہ
کوآپریٹو نظام سے خواتین کو بااختیار بنانا بڑا مقصد: شاہ

 



کولم (کیرالا): مرکزی وزیر داخلہ اور وزیر تعاون امیت شاہ نے جمعہ کو کہا کہ کوآپریٹو نظام کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا وزیر اعظم نریندر مودی کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے۔ شاہ نے کنڈارا میں نیشنل کوآپریٹو کنزیومر فیڈریشن لمیٹڈ (این سی سی ایف) کے تحت کوآپریٹو شعبے میں خواتین کو بااختیار بنانے اور اسے فروغ دینے کے مقصد سے مختلف کوآپریٹو اسکیموں کا افتتاح کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کسان اور کوآپریٹو شعبے سے وابستہ لوگ آزادی کے بعد سے ہی الگ وزارتِ تعاون قائم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے تھے، لیکن یہ مطالبہ پورا نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم مودی نے وزارتِ تعاون قائم کرکے ملک میں دیہی ترقی، زرعی ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا۔‘‘ شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں گزشتہ 10 سے 12 برسوں کے دوران خواتین کو آگے بڑھانے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے نمایاں کوششیں کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کارکنوں کو فراہم کی جانے والی مختلف سہولتوں کے باعث لیبر فورس میں خواتین کی حصہ داری 2014-15 کے 23 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد ہوگئی ہے۔ شاہ کے مطابق وزیر اعظم مودی کی قیادت میں تقریباً 36 کروڑ خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نریندر مودی نے تین طلاق پر پابندی لگانے کا قدم اٹھایا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پہلے مسلم خواتین کو اکیلے حج کرنے کی اجازت نہیں تھی، لیکن اب وہ کسی مرد ساتھی کے بغیر بھی حج کر سکتی ہیں۔

شاہ نے کہا، ’’آج ہندوستانی مسلح افواج میں 11 ہزار سے زیادہ بیٹیاں افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔‘‘ شاہ نے مودی حکومت کے دور میں تنخواہ کے ساتھ ملنے والی زچگی کی چھٹی کو بڑھا کر 26 ہفتے کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین کروڑ ’لکھ پتی دیدی‘ بنانے کا ہدف 2024 سے پہلے ہی حاصل کرلیا گیا تھا اور بی جے پی کی قیادت والی حکومت کا ہدف 2029 تک اس تعداد کو بڑھا کر چھ کروڑ کرنا ہے۔ ’لکھ پتی دیدی‘ ایسی خواتین کو کہا جاتا ہے جو سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) کی رکن ہوں اور جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہو۔