ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کا حلف نامہ ، جواب دینے کے لیے10 دن کی مہلت

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 27-10-2026
ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کا حلف نامہ ، جواب دینے کے لیے10 دن کی مہلت
ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کا حلف نامہ ، جواب دینے کے لیے10 دن کی مہلت

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دفاع میں الیکشن کمیشن کی جانب سے داخل کیے گئے حلف نامے پر جواب دینے کے لیے منگل کے روز درخواست گزاروں کو 10 دن کا وقت دیا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ یہ عمل قانون کے مطابق تھا اور اسے نافذ کرنے سے متعلق احکامات کو کمیشن کے تینوں ارکان نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے راجیہ سبھا کی رکن ڈولا سین کی ایک نئی عرضی پر الیکشن کمیشن اور دیگر فریقوں کو نوٹس بھی جاری کیا۔

اس عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ بہار میں ایس آئی آر کے دوران سپریم کورٹ کی منظوری کے بغیر ’فارم 6‘ میں تبدیلیاں کی گئیں۔ ڈولا سین کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل اور رکن پارلیمنٹ مینکا گرو سوامی نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غلط دعویٰ کیا ہے کہ ’فارم 6‘ میں کی گئی تبدیلیوں کو سپریم کورٹ نے منظوری دی تھی۔ چیف جسٹس نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے پہلے درخواست گزار راکیش کمار سنگھ کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل وکاس سنگھ سے کہا کہ وہ پیر کی دیر شام داخل کیے گئے الیکشن کمیشن کے جواب پر 10 دن کے اندر اپنا جواب داخل کریں۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کے جواب میں کمیشن نے 248 صفحات پر مشتمل حلف نامہ داخل کرکے ایس آئی آر کا بھرپور دفاع کیا۔ کمیشن نے ’فارم 6‘ میں ترمیم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے قانونی ’فارم 6‘ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈپٹی الیکشن کمشنر بھانو پرکاش یتورو کے داخل کردہ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن پر الزامات لگانے کی کوشش افسوس ناک ہے۔

کمیشن نے یہ بھی کہا کہ حلف نامہ داخل کرنے کی منظوری اس کے تینوں ارکان کے متفقہ فیصلے کے بعد ہی دی گئی تھی۔ یہ عرضیاں انڈین ایکسپریس اخبار کی 25 ستمبر کی ایک رپورٹ کے بعد دائر کی گئی تھیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراض کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احکامات ان کی جانکاری یا سفارش کے بغیر جاری کیے گئے تھے۔ اس رپورٹ کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں اور ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (کاجپا) نے احتجاج شروع کر دیا تھا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔