دہلی اردو اکادمی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے جاری

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 05-11-2026
دہلی اردو اکادمی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے جاری
دہلی اردو اکادمی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے جاری

 



نئی دہلی: اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام اسکولوں کے طلبہ و طالبات کی تعلیمی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مختلف تعلیمی و ثقافتی مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں بدھ کی صبح مڈل زمرے کے طلبہ و طالبات کے درمیان بیت بازی کا مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں دہلی کے مختلف اسکولوں کی ٹیموں نے حصہ لیا۔

اردو اکادمی کی جانب سے ہر سال ان مقابلوں کا انعقاد طلبہ میں تعلیم سے دلچسپی پیدا کرنے اور ان کے اندر مسابقت کا جذبہ بیدار کرنے کے مقصد سے کیا جاتا ہے۔ ان مقابلوں میں تقریری، فی البدیہہ تقریری، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، سوال و جواب، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوش خطی، بلند خوانی، گروپ گیت اور امنگ مصوری جیسے مقابلے شامل ہیں۔ ان میں دہلی کے پرائمری سے لے کر سینئر سیکنڈری سطح تک کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات شرکت کرتے ہیں۔

چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے منعقدہ بیت بازی کے مقابلے میں معروف شاعر مرزا عارف اور ڈاکٹر وسیم راشد نے منصفین کی حیثیت سے شرکت کی۔ مقابلے کے اختتام پر دونوں منصفین نے شرکا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ نے اشعار کا انتخاب اچھے انداز میں کیا ہے تاہم تلفظ کی درست ادائیگی پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیت بازی میں صرف اشعار یاد کرنا کافی نہیں بلکہ ان کی پیشکش بھی اہمیت رکھتی ہے۔ آواز کا اتار چڑھاؤ، الفاظ کی واضح ادائیگی اور انداز بیان اشعار کے اثر کو بڑھاتے ہیں۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اشعار کے مفہوم، پس منظر اور جذبات کو سمجھ کر انہیں پیش کریں۔ منصفین نے طلبہ کی تیاری میں تعاون کرنے والے اساتذہ اور والدین کی کوششوں کی بھی تعریف کی اور اردو اکادمی کو اس بات کے لیے مبارکباد دی کہ وہ نئی نسل کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور انہیں نکھارنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔

ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل اسکول نے پہلا مقام حاصل کیا

منصفین کے فیصلے کے مطابق ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، جعفرآباد کی ٹیم نے پہلا انعام حاصل کیا جبکہ کریسنٹ اسکول، دریا گنج کی ٹیم دوسرے مقام پر رہی۔ جامعہ مڈل اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور رابعہ گرلز پبلک اسکول، گلی قاسم جان کی ٹیموں کو مشترکہ طور پر تیسرے انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ کی ٹیم کو حوصلہ افزائی کا انعام دیا جائے گا۔

بہترین انفرادی کارکردگی پر طلبہ کا انتخاب

مقابلے میں نمایاں انفرادی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کو بھی انفرادی انعامات کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان میں ہمدرد پبلک اسکول کی عالیہ بختیار ادریسی بنت علی اصغر ادریسی اور کشش بنت مشفق عالم، سروودیہ کنیا ودیالیہ، نور نگر کی رقیہ خلیل بنت خلیل احمد اور سیرت جہاں بنت محمد نوشاد عالم، نیز شفیق میموریل سینئر سیکنڈری اسکول کے محمد عاطف ولد محمد راشد اور جازیبہ بانو بنت محمد جاوید شامل ہیں۔واضح رہے کہ اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام ہونے والا امنگ مصوری مقابلہ پہلے یکم نومبر کو منعقد ہونا طے پایا تھا تاہم اب اس کی تاریخ تبدیل کرکے 15 نومبر مقرر کی گئی ہے۔

اردو اکادمی دہلی کی جانب سے اسکولوں کے طلبہ و طالبات میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنے اور ان میں مسابقت کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے ہر سال مختلف تعلیمی و ثقافتی مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان مقابلوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو اول، دوم اور سوم انعامات سے نوازا جاتا ہے جبکہ دیگر شرکا کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی انعامات دیے جاتے ہیں۔

 بارہویں جماعت کے طلبہ و طالبات کے لیے بیت بازی کا مقابلہ

اکادمی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ان مقابلوں میں تقریری، فی البدیہہ تقریری، بیت بازی، اردو ڈراما، غزل سرائی، سوال و جواب، مضمون نویسی، خطوط نویسی، خوش خطی، بلند خوانی، گروپ گیت اور امنگ مصوری کے مقابلے شامل ہیں۔ یہ مقابلے دہلی کے پرائمری سے لے کر سینئر سیکنڈری سطح تک کے اردو اسکولوں کے طلبہ و طالبات کے درمیان منعقد کیے جا رہے ہیں۔اسی سلسلے میں  نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ و طالبات کے لیے بیت بازی کا مقابلہ منعقد ہوا۔ اس موقع پر معروف شعرا اعجاز انصاری اور احمد علوی نے منصفین کے فرائض انجام دیے۔

شعر و ادب سے وابستگی مضبوط کرنے پر زور

مقابلے کے اختتام پر منصفین نے طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بیت بازی جیسے ادبی مقابلے بچوں میں شعر و ادب سے دلچسپی پیدا کرنے اور اردو زبان سے ان کی وابستگی مضبوط بنانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اشعار کے انتخاب اور ان کی ادائیگی میں مزید محنت کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ الفاظ کے درست تلفظ اور مخارج کی ادائیگی کے ساتھ شعر کی روانی، لہجے کے اتار چڑھاؤ اور مناسب اندازِ قرأت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ محض اشعار یاد کر لینا کافی نہیں بلکہ ان کے مفہوم اور جذبے کو سمجھ کر پیش کرنا بھی ضروری ہے۔منصفین نے تمام شرکا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں شعر و ادب کا مطالعہ جاری رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اردو اکادمی دہلی کی اس کاوش کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا کہ وہ طلبہ و طالبات کو اپنی صلاحیتوں اور ادبی ذوق کے اظہار کے لیے ایک مناسب پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے جہاں انہیں اپنے فن کو نکھارنے کا موقع مل رہا ہے۔

اینگلو عربک اسکول نے پہلی پوزیشن حاصل کی

منصفین کے فیصلے کے مطابق اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول، اجمیری گیٹ کی ٹیم نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ سید عابد حسین سینئر سیکنڈری اسکول، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ٹیم دوسرے مقام پر رہی جبکہ ہمدرد پبلک اسکول، سنگم وہار اور شفیق میموریل سینئر سیکنڈری اسکول، باڑہ ہندو راؤ کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔اس کے علاوہ رابعہ گرلز پبلک اسکول، گلی قاسم جان کی ٹیم کو حوصلہ افزائی کے انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔