نئی دہلی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان کے قائم کردہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کی زمین اور عمارت کو انسدادِ منی لانڈرنگ قانون کے تحت قرق کرلیا ہے۔ اس جائیداد کی موجودہ بازاری قیمت تقریباً 1,170 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
مرکزی تفتیشی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا، ’’رام پور کے گاؤں سنگھن کھیڑا میں جوہر نگر واقع یونیورسٹی کا کیمپس مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے پاس ہے۔ اس ٹرسٹ کی بنیاد محمد اعظم خان نے رکھی تھی اور اس کا کنٹرول بھی انہی کے پاس ہے۔ وہ یونیورسٹی کے اعزازی چانسلر بھی ہیں۔‘‘
ای ڈی نے جائیداد قرق کرنے کے لیے انسدادِ منی لانڈرنگ قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت عارضی حکم جاری کیا ہے۔ ایجنسی نے اس معاملے میں اگست میں چھاپے مارے تھے۔ اس نے رام پور جیل میں بند اعظم خان سے پوچھ گچھ بھی کی تھی۔ ٹرسٹ کا صدر دفتر لکھنؤ میں ہے اور اس کا انتظام اتر پردیش کے سابق کابینی وزیر اعظم خان کی قیادت میں چلایا جاتا ہے۔ وہ اس کے چیف ٹرسٹی ہیں۔ ان کے خاندان کے کچھ افراد اور قریبی ساتھی بھی ٹرسٹ سے وابستہ ہیں۔ یہ ٹرسٹ 2006 میں قائم ہونے والی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے علاوہ رام پور ضلع میں ایک پبلک اسکول بھی چلاتا ہے۔