مہاراشٹر کے 265 تعلقوں میں خشک سالی : حکومت کو راحتی اقدامات پر پر توجہ دینی چاہیے

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 26-09-2026
مہاراشٹر کے 265 تعلقوں میں خشک سالی : حکومت کو راحتی اقدامات پر پر توجہ دینی چاہیے
مہاراشٹر کے 265 تعلقوں میں خشک سالی : حکومت کو راحتی اقدامات پر پر توجہ دینی چاہیے

 



لاتور: مہاراشٹر کے 265 تعلقوں میں خشک سالی کا اعلان کیے جانے کے بعد شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے ہفتہ کو کہا کہ اب ریاستی حکومت کو راحتی اقدامات پر عمل درآمد پر توجہ دینی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر متاثرہ کسان تک امداد پہنچے۔ آدتیہ ٹھاکرے نے ہفتہ کو ریاست کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دو روزہ دورہ شروع کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے شولاپور کا دورہ کیا، جس کے بعد دھاراشیو اور لاتور اضلاع پہنچے۔ وہ ناندیڑ، ہنگولی، پربھنی، جالنا اور چھترپتی سمبھاجی نگر کا بھی دورہ کریں گے۔

دھاراشیو ضلع کے تلجاپور تحصیل کے خانہ پور گاؤں میں فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو خشک سالی کا اعلان پہلے ہی کردینا چاہیے تھا۔ ریاستی حکومت نے ہفتہ کو 358 میں سے 265 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا اور راحتی اقدامات کا اعلان کیا۔ ان میں فصلوں کے قرضوں کی تنظیم نو، زمین کے محصول میں رعایت اور زرعی قرضوں کی وصولی مؤخر کرنا شامل ہے۔ جمعہ کی دیر رات جاری کیے گئے حکومتی حکم نامے کے مطابق، اس فیصلے سے ریاست کے 74 فیصد تعلقے متاثر ہوں گے۔

خشک سالی سے سب سے زیادہ متاثرہ تعلقے شولاپور، اہلیہ نگر، ناسک، لاتور، بیڑ، بلڈھانہ، امراوتی، یوتمل، ناگپور اور چندرپور اضلاع میں ہیں۔ آدتیہ ٹھاکرے نے کہا، ’’خشک سالی کا اعلان دیر سے ہوا یا اسے کب کیا جانا چاہیے تھا، یہ الگ بات ہے۔ ہم مسلسل مطالبہ کر رہے تھے کہ خشک سالی کا اعلان پہلے کیا جائے۔ کرناٹک نے مہاراشٹر سے پہلے اس کا اعلان کردیا تھا۔‘‘ تاہم سابق ریاستی وزیر نے کہا کہ اب توجہ راحتی اقدامات پر عمل درآمد کی طرف ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’اب جبکہ خشک سالی کا اعلان کردیا گیا ہے، حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ خشک سالی کے مکمل راحتی پیکیج کے تحت جو بھی امداد دی جانی ہے، وہ ہر کسان تک پہنچے۔‘‘

انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ خشک حالات کا اثر صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ خشک سالی یا سپر ایل نینو صرف زرعی شعبے کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ شہری علاقوں پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ اس سے پورا مہاراشٹر اور ملک متاثر ہوگا۔‘‘ آدتیہ ٹھاکرے نے صورتحال کے وسیع تر اثرات سے نمٹنے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان مربوط کارروائی پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور ملک کے لیے ضروری منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔ حکومت نے اپنے حکم نامے میں زمین کے محصول میں رعایت، فصلوں کے قرضوں کی تنظیم نو، زرعی قرضوں کی وصولی مؤخر کرنے اور زرعی پمپوں کے بجلی کے بلوں میں رعایت سمیت کئی راحتی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ بعد میں خانہ پور میں کسانوں سے بات چیت کرتے ہوئے ٹھاکرے نے دوبارہ کہا کہ حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ خشک سالی کی راحت حقیقت میں کسانوں تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ خشک سالی کے اعلان کے بعد کسانوں کے ہاتھ میں حقیقتاً کتنی امداد پہنچتی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن اسمبلی نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ بحران کے باعث کوئی انتہائی قدم نہ اٹھائیں۔

انہوں نے کسانوں سے کہا، ’’براہ کرم اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچیں بھی نہیں۔ اس صورتحال سے پوری ریاست اور ملک متاثر ہو رہا ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ صرف آپ ہی اس مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر بینک آپ کو پریشان کر رہے ہیں تو ہمیں بتائیں، ہم یہ معاملہ اٹھائیں گے۔‘‘ ٹھاکرے نے کہا کہ بینکوں کو اپنے ضابطے نافذ کرنے سے پہلے زمینی صورتحال کو سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کا زندہ رہنا ان کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ ریاست کے لوگوں کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ ’’آپ اناج فراہم کرنے والے ہیں۔ اگر آپ زندہ رہیں گے تو ریاست بھی زندہ رہے گی۔ ہمیں آپ کے بچوں اور اس ریاست کی خاطر مضبوطی سے کھڑے ہوکر اس صورتحال کا سامنا کرنا ہے۔‘

‘ ان کے مطابق شیو سینا (یو بی ٹی) اور اس کے سربراہ ادھو ٹھاکرے ماضی میں بھی بحران کے دوران کسانوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ آدتیہ ٹھاکرے نے کہا، ’’میں یہاں کوئی سیاسی اجلاس کرنے نہیں آیا ہوں بلکہ صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔ ادھو صاحب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ ہم اس معاملے پر سیاست کرنے نہیں آئے ہیں۔ ہم صرف یہ یقینی بنانے کے لیے رابطے کا ذریعہ بننا چاہتے ہیں کہ آپ کو جس مدد کی ضرورت ہے، وہ آپ تک پہنچے۔‘‘ بات چیت کے دوران انہوں نے کسانوں سے پوچھا کہ کیا انہیں گزشتہ سال ہوئی شدید بارش سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا معاوضہ ملا ہے۔

کسانوں نے بتایا کہ فصلوں کے نقصان کا پنچنامہ مکمل ہونے کے باوجود انہیں ابھی تک کوئی امداد نہیں ملی ہے۔ سابق وزیر نے کہا کہ موجودہ موسمی حالات خشک سالی کی مدت اور شدت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کسانوں کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔ ٹھاکرے نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو گاؤں کا دورہ کرکے کسانوں کو سادہ پیغام دینا چاہیے: ’’ڈرنے کی ضرورت نہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اس بحران کے اثرات دیہی علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے اور شہروں میں بھی پینے کے پانی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔