ڈی پی ڈی پی قانون پریس کی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کرتا: ویشنو

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 28-10-2026
ڈی پی ڈی پی قانون پریس کی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کرتا: ویشنو
ڈی پی ڈی پی قانون پریس کی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کرتا: ویشنو

 



نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے بدھ کے روز کہا کہ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کے تحفظ (ڈی پی ڈی پی) قانون کی کوئی بھی شق پریس کی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی آئین پریس کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ میڈیا کے حلقوں میں اس قانون کو لے کر ظاہر کی جانے والی وسیع تر تشویش کے درمیان ویشنو نے مدیران اور میڈیا سے وابستہ پیشہ ور افراد کو قانون کی دفعات پر حکومت کے ساتھ کھلی بحث کرنے کی دعوت بھی دی۔

ویشنو کا یہ بیان ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن (ڈی این پی اے) کی جانب سے ایک روز قبل ڈی پی ڈی پی قانون اور اس کے قواعد کی بعض دفعات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ تنظیم 21 نیوز پبلشرز کی نمائندگی کرتی ہے۔ خبر رساں اداروں نے دلیل دی ہے کہ اس قانون میں صحافتی سرگرمیوں کے لیے خصوصی چھوٹ نہ ہونے سے تحقیقاتی صحافت متاثر ہو سکتی ہے اور پریس کی آزادی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے اور اگلی سماعت کے لیے 17 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

نیوز اداروں کا کہنا ہے کہ ذاتی ڈیٹا سے متعلق نوٹس دینے، رضامندی حاصل کرنے اور ڈیٹا مٹانے کی دفعات صحافیوں کے لیے عوامی مفاد کے معاملات پر رپورٹنگ کرنا مشکل بنا سکتی ہیں۔ خاص طور پر مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے دوران ایسی پابندیاں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے اس قانون کے باعث صحافتی ذرائع کی رازداری متاثر ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔ ان خدشات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ویشنو نے کہا، ’’صحافت کی آزادی کی ضمانت ہندوستان کا آئین دیتا ہے۔ یہ آزادی مکمل طور پر حاصل ہے۔ صحافت کی آزادی کو متاثر کرنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں ہے۔ اس طرح، رازداری کا قانون صحافت کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتا ہے اور اس کی ضمانت آئین دیتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل رازداری کے حق کو یقینی بنانے والا یہ قانون سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی بنایا گیا تھا۔