الہ آباد ہائی کورٹ نے سہارنپور پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ اگر مقررہ صوتی آلودگی کے قوانین پر عمل کیا جائے تو سہارنپور کی عائشہ مسجد میں پانچ وقت اذان دینے کے حق میں مداخلت نہ کی جائے۔
عدالت نے یہ ہدایت دیتے ہوئے واضح کیا کہ مسجد انتظامیہ کو Noise Pollution (Regulation and Control) Rules, 2000 اور عدالت کے 2020 کے اس فیصلے کی پابندی کرنا ہوگی جس میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر اور دیگر صوتی آلات کے استعمال سے متعلق ضوابط طے کیے گئے تھے۔
یہ حکم جسٹس اجیت کمار اور جسٹس گریما پرشاد کی بنچ نے یکم اکتوبر کو شناواز خان اور پانچ دیگر افراد کی جانب سے دائر درخواست پر دیا۔
درخواست کا تعلق سہارنپور ضلع کے تھانہ گگال ہیڑی کے تحت گاؤں پٹھید کے پلاٹ نمبر 47 میں واقع عائشہ مسجد سے تھا۔
عدالت سے کیا مطالبہ کیا گیا تھا؟
درخواست گزاروں نے آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت عدالت سے رجوع کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت دینے کی درخواست کی تھی کہ انہیں مسجد میں دن میں پانچ مرتبہ اذان دینے اور اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے میں پہلے بھی عدالتی فیصلے آ چکے ہیں جن میں مقررہ شرائط کے تحت لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے، لیکن مقامی حکام مسجد میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ریاستی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کو اذان دینے سے نہیں روکا جا رہا۔ اعتراض صرف لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے طریقے پر ہے۔
2020 کے فیصلے میں کیا کہا گیا تھا؟
Afzal Ansari & 2 Others v. State of U.P. & 2 Others (2020) کے مقدمے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اگرچہ اذان اسلام کا ایک ضروری اور بنیادی حصہ ہو سکتی ہے، لیکن لاؤڈ اسپیکر یا دیگر صوتی آلات کے ذریعے اذان دینا مذہب کا ایسا لازمی حصہ نہیں ہے جسے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت تحفظ حاصل ہو۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ آرٹیکل 25 کے تحت مذہبی آزادی کا حق امنِ عامہ، اخلاقیات، صحت عامہ اور آئین کی دیگر دفعات کے تابع ہے۔
عدالت نے کہا تھا کہ صوتی آلات کا استعمال رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک نہیں کیا جا سکتا۔
2020 کے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اگر صوتی آلات استعمال کرنے کی باقاعدہ اجازت حاصل نہ ہو تو ان کا استعمال غیر قانونی ہوگا۔
تاہم عدالت نے ساتھ ہی کہا تھا کہ مسجد کے مینار سے انسانی آواز کے ذریعے بغیر کسی صوتی آلے کے اذان دی جا سکتی ہے۔
درخواست گزاروں کی یقین دہانی
موجودہ مقدمے میں درخواست گزاروں نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ صوتی آلودگی سے متعلق قوانین یا عدالت کے سابقہ احکامات کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اذان کے دوران لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے مقررہ ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔اس یقین دہانی کے بعد عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے ایک مخصوص شرط عائد کی۔
عدالت نے درخواست گزاروں کو ہدایت دی کہ وہ ایک درخواست کے ساتھ نوٹری سے تصدیق شدہ حلف نامہ جمع کرائیں، جس پر ان کے دستخط ہوں اور جس میں Noise Pollution Rules, 2000 اور 2020 کے Afzal Ansari فیصلے میں دی گئی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کا عہد کیا گیا ہو۔عدالت نے کہا کہ درخواست اور حلف نامہ جمع کرائے جانے کے بعد پولیس اور ضلعی انتظامیہ عائشہ مسجد میں پانچ وقت اذان دینے کے حق میں مداخلت نہیں کرے گی۔
تاہم عدالت نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بھی واضح کر دی۔عدالت نے کہا کہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ درخواست گزار اپنے حلف نامے میں دی گئی یقین دہانی پر عمل کریں۔ اگر وہ مقررہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پولیس اور انتظامیہ قانون کے مطابق مناسب کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہوں گے۔
یعنی عدالت نے پانچ وقت اذان دینے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو صوتی آلودگی کے قوانین اور سابقہ عدالتی ہدایات سے مشروط رکھا ہے۔