بڈاپسٹ: کتوں کے دماغ مسلسل انسانی گفتگو کو الفاظ میں تقسیم کرنے کے لیے ایسے انداز میں عمل کرتے ہیں جو اس سے قبل صرف انسانوں میں دیکھا گیا تھا۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق کتوں کے دماغ ان الفاظ کے نمونوں کو زیادہ بہتر طور پر پہچانتے ہیں جن کی بنیادی ساخت حروف صحیح سے بنتی ہے۔ یہ تحقیق بڈاپسٹ کی ایوٹوش لورانڈ یونیورسٹی کے محققین نے کی ہے اور اسے سائنسی جریدے سائنس میں شائع کیا گیا ہے۔
تحقیق میں پہلی مرتبہ یہ شواہد سامنے آئے ہیں کہ انسانوں کے علاوہ کسی دوسری نوع کے دماغ میں بھی حروف صحیح کی بنیاد پر الفاظ کو پہچاننے کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق کتوں کے دماغ بھی انسانوں کی طرح اس وقت الفاظ کی لے کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے ہم آہنگ ہوئے جب الفاظ کی بنیادی ساخت حروف صحیح پر مشتمل تھی۔
یہ تحقیق ایوٹوش لورانڈ یونیورسٹی کی مواصلاتی اعصابی رویوں کی تجربہ گاہ میں کی گئی جہاں سائنس دانوں نے 20 انسانوں اور 20 پالتو کتوں کے دماغی ردعمل کا موازنہ کیا۔ شرکا نے ایسی مسلسل گفتگو سنی جس میں الفاظ کے درمیان کوئی واضح وقفہ نہیں تھا۔ محققین نے غیر مداخلتی برقی دماغی پیمائش کے ذریعے دماغی سرگرمی ریکارڈ کی اور یہ دیکھا کہ آوازوں میں موجود تال کے ساتھ دماغی سرگرمی کس حد تک ہم آہنگ ہوتی ہے۔
علمی اعصابی سائنس دان اور تحقیق کے مرکزی مصنف اٹیلا اینڈکس کے مطابق الفاظ بنیادی طور پر دو طرح کی گفتاری آوازوں یعنی مصوتوں اور حروف صحیح سے بنتے ہیں۔ مصوتے زیادہ بلند اور نمایاں ہوتے ہیں تاہم عموماً حروف صحیح الفاظ کی بنیادی ساخت تشکیل دیتے ہیں۔
تجربے کے دوران شرکا کو ایسی آوازیں سنائی گئیں جن میں حروف صحیح یا مصوتے تین صوتی اکائیوں پر مشتمل بار بار دہرائے جانے والے نمونے تشکیل دے رہے تھے۔ اس کے ساتھ ایک ایسی آواز بھی سنائی گئی جس میں کوئی باقاعدہ نمونہ موجود نہیں تھا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ کتوں کے دماغ نے ان آوازوں کے ساتھ زیادہ مضبوط ہم آہنگی دکھائی جن میں حروف صحیح الفاظ کی ساخت تشکیل دے رہے تھے۔ انسانوں کے دماغ میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا۔
تحقیق کی شریک مرکزی مصنف اور ماہر نفسیات کنگا جی ٹوتھ نے کہا کہ حروف صحیح پر مبنی آوازوں میں کتوں کے دماغ بھی انسانوں کی طرح الفاظ کی تال کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ ہوئے۔
محققین نے دماغی سرگرمی میں ایک خاص تبدیلی بھی نوٹ کی جو ہر لفظ کے شروع ہونے کے تقریباً 400 ملی سیکنڈ بعد ظاہر ہوئی۔ یہ تبدیلی صرف ان الفاظ میں دیکھی گئی جن کی ساخت حروف صحیح پر مبنی تھی۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ وقت دماغ میں مسلسل گفتگو کو الگ الگ الفاظ میں تقسیم کرنے سے وابستہ ایک مرحلے سے مطابقت رکھتا ہے۔
یہ رجحان ان کتوں میں بھی دیکھا گیا جنہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی مہینے ایسے ماحول میں گزارے جہاں انسانی گفتگو سے ان کا زیادہ واسطہ نہیں تھا۔ وہ کتے جنہوں نے پہلے 3 ماہ سڑکوں یا پناہ گاہوں میں گزارے تھے ان کے دماغ میں بھی حروف صحیح کی بنیاد پر الفاظ کو پہچاننے کا تقریباً اتنا ہی مضبوط رجحان موجود تھا۔
کنگا جی ٹوتھ کے مطابق اس سے مزید شواہد ملتے ہیں کہ حروف صحیح کی بنیاد پر الفاظ کو پہچاننے کے لیے زبان سمجھنے کا کوئی پیدائشی اعصابی نظام ضروری نہیں۔ یہ رجحان نسبتاً سادہ انداز میں نمونوں کو سیکھنے کے عمل کے ذریعے بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
تاہم تحقیق میں انسانوں اور کتوں کے درمیان کچھ اہم فرق بھی سامنے آئے۔ انسان مصوتوں کے نمونوں سے بنائے گئے الفاظ کو بھی پہچان سکتے تھے اگرچہ حروف صحیح سے بنائے گئے الفاظ کے مقابلے میں ان کی کارکردگی کم تھی۔ کتے ایسے الفاظ کو پہچاننے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ دونوں انواع نے صوتی اکائیوں کی تال کو سمجھا لیکن صرف انسانی دماغ نے انفرادی گفتاری آوازوں کی تال کے ساتھ ہم آہنگی ظاہر کی۔
محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسان مسلسل گفتگو کو زیادہ باریک سطح پر سمجھتے ہیں جہاں انفرادی گفتاری آوازیں الگ الگ اعصابی اکائیوں کے طور پر کام کرتی ہیں جبکہ کتے غالباً صوتی اکائیوں کو اپنی سب سے چھوٹی پردازشی اکائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اٹیلا اینڈکس نے کہا کہ مجموعی طور پر تحقیق کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ گفتگو کو سمجھنے کے لیے دماغ کی مخصوص ساخت اور خصوصاً حروف صحیح کی بنیاد پر الفاظ کو پہچاننے کا رجحان کسی پیدائشی اور انسانوں جیسی لسانی صلاحیت کا محتاج نہیں۔ ان کے مطابق گفتگو سے مسلسل واسطہ دماغ کے کام کرنے کے انداز میں تبدیلی کے لیے کافی ہوسکتا ہے اور ایسی دماغی خصوصیات پیدا ہوسکتی ہیں جو اس سے پہلے صرف انسانوں میں دیکھی گئی تھیں۔