وزیر اعظم کے فضائیہ کے طیارے سے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات عام نہیں ہو سکتیں: ہائی کورٹ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
وزیر اعظم کے فضائیہ کے طیارے سے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات عام نہیں ہو سکتیں: ہائی کورٹ
وزیر اعظم کے فضائیہ کے طیارے سے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات عام نہیں ہو سکتیں: ہائی کورٹ

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ہندوستانی فضائیہ کے طیارے سے وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں سے متعلق معلومات ظاہر کرنے کے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ان معلومات کے افشا ہونے سے قومی سلامتی اور وزیر اعظم کی جان و حفاظت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ ان معلومات کو عام کرنے کے لیے وسیع تر عوامی مفاد موجود ہے۔ جسٹس امیت مہاجن نے 15 اکتوبر کو اپنے حکم میں کہا، ’’صرف اس بنیاد پر کہ وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں پر سرکاری رقم خرچ ہوئی ہے، ان سے متعلق معلومات ظاہر کرنا مناسب نہیں ہو جاتا۔ اس سے ان دوروں کے لیے کیے گئے حفاظتی انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔

‘‘ عدالت نے اپنے حکم میں کہا، ’’جب تک ان خدشات سے زیادہ اہم وسیع تر عوامی مفاد ثابت نہیں ہوتا، تب تک مانگی گئی معلومات ظاہر کرنے کی ہدایت نہیں دی جا سکتی۔‘‘ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ مرکزی اطلاعاتی کمیشن کے اس حکم میں خامی تھی، جس میں وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں سے متعلق ’اسپیشل فارن ریٹرنس‘ (ایس ایف آر-2) کی تفصیلات سکیورٹی اہلکاروں کے نام اور ان کی شناخت سے متعلق معلومات حذف کرنے کے بعد عام کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

عدالت فضائیہ کے ہیڈکوارٹر کے ڈائریکٹوریٹ آف پرسنل سروسز کے مرکزی عوامی اطلاعاتی افسر (سی پی آئی او) کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ درخواست میں مرکزی اطلاعاتی کمیشن کے جولائی 2020 کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں دستیاب اور متعلقہ ایس ایف آر-2 ریکارڈ کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ ریکارڈ ریٹائرڈ کموڈور لوکیش کے باٹرا نے طلب کیے تھے۔

انہوں نے حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت درخواست دائر کرکے یکم اپریل 2013 سے 5 جون 2018 کے درمیان ہندوستانی فضائیہ کے طیاروں سے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بیرون ملک دوروں سے متعلق معلومات مانگی تھیں۔