کانگریس کے سپریم کورٹ مارچ کے پیش نظر دہلی میں ٹریفک ایڈوائزری جاری

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
کانگریس کے سپریم کورٹ مارچ کے پیش نظر دہلی میں ٹریفک ایڈوائزری جاری
کانگریس کے سپریم کورٹ مارچ کے پیش نظر دہلی میں ٹریفک ایڈوائزری جاری

 



نئی دہلی:کانگریس کی جانب سے سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ کی اپیل کے پیش نظر دہلی ٹریفک پولیس نے پیر کو قومی راجدھانی کے متعدد علاقوں میں ٹریفک متاثر ہونے اور راستوں میں تبدیلی کیے جانے کے امکان کے بارے میں ایڈوائزری جاری کی ہے۔

ایڈوائزری کے مطابق، موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے 12 اکتوبر کو صبح 6 بجے سے ٹریفک کا رخ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ نئی دہلی اور وسطی دہلی کے کئی اہم چوراہوں، فلائی اوورز اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

دہلی ٹریفک پولیس نے اپنے بیان میں کہا، ’’امن و قانون کی صورت حال کے پیش نظر 12 اکتوبر 2026 کو دہلی کے درج ذیل راستوں پر ٹریفک متاثر ہوسکتی ہے۔ موجودہ صورت حال کے مطابق صبح 6 بجے سے راستوں میں تبدیلی کی جائے گی۔ عام لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ درج ذیل مقامات اور ان کے آس پاس کے راستوں پر آمد و رفت متاثر رہ سکتی ہے۔‘‘

کن راستوں پر ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ ہے؟

ٹریفک پولیس کی ایڈوائزری کے مطابق، جن مقامات پر ٹریفک کی نقل و حرکت متاثر ہوسکتی ہے، ان میں شامل ہیں:

  • شَنکر روڈ راؤنڈ اباؤٹ سے وندے ماترم ٹی پوائنٹ کی جانب نئی دہلی جانے والا راستہ

  • دھولا کنواں فلائی اوور

  • جھانڈے والان راؤنڈ اباؤٹ

  • پنچ کوئیاں راؤنڈ اباؤٹ

  • منڈی ہاؤس راؤنڈ اباؤٹ

  • ڈاکٹر دنیش نندنی دالمیا چوک (ڈبلیو پوائنٹ)

  • رام چرن اگروال چوک (اے پوائنٹ)

  • منٹو روڈ اور دین دیال اپادھیائے مارگ

  • گرو نانک چوک

اس کے علاوہ چیمسفورڈ روڈ اور کناٹ پلیس کے آؤٹر سرکل کا ٹی پوائنٹ، بھیرون روڈ اور ایم جی ایم (رنگ روڈ) کا ٹی پوائنٹ، لودھی روڈ فلائی اوور، نیلا گنبد راؤنڈ اباؤٹ، مدرسہ ٹی پوائنٹ اور سمراٹ ہوٹل راؤنڈ اباؤٹ پر بھی ٹریفک متاثر ہونے کا امکان ہے۔

دیگر مقامات میں سردار پٹیل مارگ اور پنچ شیل مارگ کا چوراہا، بھیکاجی کاما پلیس کے نیچے کا راستہ، موتی باغ فلائی اوور کے نیچے کا حصہ اور رنگ روڈ و سان مارٹن مارگ کا ٹی پوائنٹ شامل ہیں۔

ایڈوائزری میں اشوکا روڈ اور جنتر منتر روڈ کا راؤنڈ اباؤٹ، ونڈسر پیلس راؤنڈ اباؤٹ، ٹالسٹائی روڈ اور جن پتھ کا چوراہا، ریل بھون راؤنڈ اباؤٹ، جے سنگھ روڈ اور سنسد مارگ کا چوراہا، کناٹ پلیس کے آؤٹر سرکل اور بارہ کھمبا روڈ کا ٹی پوائنٹ، گول ڈاک خانہ راؤنڈ اباؤٹ اور پٹیل چوک راؤنڈ اباؤٹ کو بھی ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے مقامات میں شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ جے سنگھ روڈ اور اشوکا روڈ کا ٹی پوائنٹ، آر ایم ایل اسپتال راؤنڈ اباؤٹ اور کناٹ پلیس کے آؤٹر سرکل و سنسد مارگ کا ٹی پوائنٹ بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

مسافروں کو اضافی وقت لے کر نکلنے کا مشورہ

دہلی ٹریفک پولیس نے نئی دہلی اور وسطی دہلی سے ہوتے ہوئے ریلوے اسٹیشنوں، بین ریاستی بس ٹرمینلز (آئی ایس بی ٹی) اور ہوائی اڈے جانے والے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے سفر کی پہلے سے منصوبہ بندی کریں اور راستے کے لیے اضافی وقت رکھیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے، ’’اگر آپ نئی دہلی اور وسطی دہلی سے ہوتے ہوئے ریلوے اسٹیشنوں، آئی ایس بی ٹی یا ہوائی اڈے کی جانب جا رہے ہیں تو سفر کے لیے اضافی وقت اپنے پاس رکھیں۔‘‘

پولیس نے لوگوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ اس کے مطابق، زمینی صورت حال کا مسلسل جائزہ لیتے ہوئے ٹریفک انتظامات میں تبدیلی کی جائے گی۔

پولیس نے مزید کہا کہ ٹریفک سے متعلق اقدامات موجودہ حالات کے مطابق کیے جائیں گے اور حقیقی وقت میں زمینی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد پابندیوں میں نرمی یا سختی کی جا سکتی ہے۔

ایس آئی آر کے معاملے پر اپوزیشن کا احتجاج

اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اور ارکان پارلیمنٹ پیر کی صبح سپریم کورٹ کی جانب مارچ کرنے والے ہیں۔ یہ احتجاج ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (اسپیشل انٹینسیو ریویژن، ایس آئی آر) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔انڈیا بلاک میں شامل کئی جماعتوں کے رہنماؤں کی اس مارچ میں شرکت متوقع ہے۔ وہ انتخابی عمل سے متعلق اپنے خدشات اور مطالبات اٹھائیں گے۔

ایک روز قبل دہلی میں مظاہرین کو حراست میں لیے جانے اور پولیس کی بھاری تعیناتی کے بعد، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے اتوار کو نوجوانوں، اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے متحد ہوکر 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ کی جانب مارچ کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے لوگوں سے خوف چھوڑنے کا پیغام دیتے ہوئے کہا تھا، ’’ڈرو مت۔‘‘

دریں اثنا، چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت نے انڈیا بلاک کے رہنماؤں کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی۔ اپوزیشن رہنما مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے سلسلے میں ایک عرضداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ چونکہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے رہنماؤں کو ملاقات کے بجائے باقاعدہ عرضی دائر کرکے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔