دہلی: نیتاجی سبھاش مارگ کو ورثے اور جدید ٹرانسپورٹ کے امتزاج والے کوریڈور میں تبدیل کرنے کا منصوبہ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 02-11-2026
دہلی: نیتاجی سبھاش مارگ کو ورثے اور جدید ٹرانسپورٹ کے امتزاج والے کوریڈور میں تبدیل کرنے کا منصوبہ
دہلی: نیتاجی سبھاش مارگ کو ورثے اور جدید ٹرانسپورٹ کے امتزاج والے کوریڈور میں تبدیل کرنے کا منصوبہ

 



 نئی دہلی: دہلی حکومت نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں دارالحکومت کی تاریخی اور مصروف سڑکوں میں شامل نیتاجی سبھاش مارگ کی ازسرنو ترقی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دہلی گیٹ سے کشمیری گیٹ تک تقریباً 3.3 کلومیٹر طویل سڑک کو زیادہ منظم خوبصورت محفوظ اور سہولت بخش بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اطراف میں موجود تاریخی عمارتوں پارکوں اور عوامی مقامات کو بھی ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے گا۔

ایک پریس ریلیز کے مطابق اندراپرستھ ہیریٹیج ری ڈیولپمنٹ کارپوریشن (IVPN) کی نگرانی میں تیار کیے جانے والے اس منصوبے کے تحت نیتاجی سبھاش مارگ کو محض آمدورفت کی سڑک کے بجائے دہلی کی تاریخ ورثے فن تعمیر اور ثقافت کو جدید شہری زندگی سے جوڑنے والے ایک اہم کوریڈور کے طور پر ترقی دی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ حکومت کا مقصد اس تاریخی راستے کو نئی شناخت دینا ہے تاکہ جدید شہری سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ دہلی کے تاریخی تشخص اور ثقافتی ورثے کو بھی محفوظ رکھا جا سکے۔

سڑک کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا

منصوبے کے تحت دہلی گیٹ سے کشمیری گیٹ تک سڑک کی خوبصورتی اور ترقی کے کام کو اس کی چوڑائی کے لحاظ سے 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا حصہ کشمیری گیٹ سے جی پی او چوک تک ہوگا۔ یہ کوریڈور کا سب سے زیادہ مصروف حصہ ہے اور اس کی چوڑائی 12 سے 24 میٹر کے درمیان ہے۔

دوسرا حصہ جی پی او سے برج موہن چوک تک ہوگا جو جامع مسجد کی جانب جانے والے راستے کے قریب واقع ہے۔ اس حصے کی اوسط چوڑائی 45 میٹر ہے۔

تیسرا حصہ برج موہن چوک سے دہلی گیٹ چوراہے تک ہوگا۔ اس کی اوسط چوڑائی 16.8 سے 26 میٹر کے درمیان ہے۔

تینوں حصوں میں سڑک کی موجودہ چوڑائی اور دیگر سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے سہولتیں

منصوبے میں گاڑیوں کی آمدورفت کے ساتھ پیدل چلنے والوں اور غیر موٹرائزڈ ٹرانسپورٹ کے لیے بھی مناسب جگہ مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے تحت فٹ پاتھ بس لین موٹر گاڑیوں کی لین پارکنگ کی سہولتیں پیدل چلنے والوں کے لیے پلازہ اور سائیکل ٹریک بنائے جائیں گے۔

سڑک کے دونوں جانب جدید عوامی بیت الخلا تعمیر کیے جائیں گے جبکہ بس اسٹاپس کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ یہ تمام انتظامات محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) کے جاری اسٹریٹ اسکیپ پروجیکٹ کے ڈیزائن رہنما اصولوں کے مطابق ہوں گے۔

تاریخی مقامات اور پارکوں کو جوڑنے کا منصوبہ

اس پروجیکٹ کی ایک اہم خصوصیت نیتاجی سبھاش مارگ کے اطراف موجود تاریخی ثقافتی اور عوامی اہمیت کے حامل مقامات کی مربوط ترقی ہے۔

اس کوریڈور میں لال قلعہ جامع مسجد سینٹ جیمس چرچ کشمیری گیٹ کا علاقہ لال قلعہ کے قریب چاندنی چوک چوراہا سبھاش پارک ہندی پارک آئی جی ٹی یونیورسٹی اگروال سین پارک اور سنہری مسجد جیسے اہم مقامات کو شامل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 12 اہم مقامات اور سرسبز علاقوں کو بھی ترقیاتی منصوبے سے جوڑنے کی تجویز ہے۔ ان میں اگروال سین پارک لوتھیان قبرستان پرانا ریلوے اسٹیشن اسکوائر لال قلعہ کا گرین پاکٹ لال قلعہ کا دشہرہ میدان چاندنی چوک اور لال قلعہ کا چوراہا سنہری مسجد کا باغ سبھاش پارک برج موہن چوک دہلی گیٹ اسکوائر ایکتا استھل اور ہندی پارک شامل ہیں۔

اس اقدام کا مقصد موجودہ سبزہ زاروں کو بہتر بنانا اور پرانی دہلی کے اس تاریخی علاقے کو مزید خوبصورت بنانا ہے۔

دہلی گیٹ پر ہیریٹیج انٹرپریٹیشن پارک

منصوبے کے تحت دہلی گیٹ کے اطراف ایک خصوصی ہیریٹیج انٹرپریٹیشن پارک تیار کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ اس میں مجسمے خوبصورت پویلین سرسبز مقامات پیدل چلنے کے راستے اور پارکنگ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

پارک کے ڈیزائن میں ہریالی سجاوٹی پودوں درختوں اور علاقے کے تاریخی ورثے سے جڑے تعمیراتی عناصر کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

سڑک کی خوبصورتی اور ٹریفک کا بہتر انتظام

نیتاجی سبھاش مارگ کے دونوں جانب درخت پودے پھولوں کی کیاریاں اور سبز ڈیوائیڈر لگائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خوبصورت اسٹریٹ لائٹس آرائشی دیواریں بیٹھنے کے لیے مخصوص مقامات اور تاریخی ورثے کی عکاسی کرنے والے ڈیزائن بھی منصوبے کا حصہ ہوں گے۔

پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے لیے مخصوص کراسنگ ٹریفک سگنل اور منظم چوراہے بھی تیار کیے جائیں گے تاکہ سڑک پر آمدورفت کو زیادہ محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ اور اندراپرستھ ہیریٹیج ری ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی چیئرپرسن ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی محض ملک کا دارالحکومت نہیں بلکہ صدیوں کی تاریخ شاندار ورثے متنوع ثقافت اور زندہ روایات کی علامت ہے۔

ان کے مطابق پرانی دہلی اس تاریخی شناخت کا اہم مرکز ہے جہاں لال قلعہ جامع مسجد چاندنی چوک سبھاش پارک اور کشمیری گیٹ جیسے مقامات شہر کے شاندار ماضی کی داستان بیان کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیتاجی سبھاش مارگ کی ازسرنو ترقی کا مقصد دارالحکومت میں جدید شہری سہولتوں کو شامل کرنے کے ساتھ اس کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھنا ہے۔

ریکھا گپتا نے کہا کہ حکومت کا وژن یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی کے نام پر دہلی کی تاریخی روح اور ثقافتی شناخت متاثر نہ ہو بلکہ جدید سہولتیں اس کے تاریخی وقار اور عظمت میں مزید اضافہ کریں۔