دہلی : ایس آئی آر کے تحت ’میکانکی انداز‘ میں نوٹس،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو متنبہ کیا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 22-09-2026
دہلی : ایس آئی آر کے تحت  ’میکانکی انداز‘ میں نوٹس،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو متنبہ کیا
دہلی : ایس آئی آر کے تحت ’میکانکی انداز‘ میں نوٹس،سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو متنبہ کیا

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو الیکشن کمیشن سے کہا کہ دہلی میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے تحت لوگوں کو تقریباً ’’میکانکی انداز‘‘ میں نوٹس بھیجے جارہے ہیں، اس لیے کمیشن کو اس عمل میں کچھ اضافی حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر غور کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے الیکشن کمیشن سے ’’منطقی تضاد‘‘ کی شناخت کی بنیاد کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی۔ بنچ نے کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو سے کہا، ’’لوگوں کو تقریباً میکانکی انداز میں نوٹس بھیجے جارہے ہیں۔ یہ دیکھیں کہ کیا کچھ اضافی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

منطقی تضاد کی شناخت کی بنیاد کے بارے میں بھی وضاحت درکار ہے۔‘‘ سپریم کورٹ ایک مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کررہی تھی، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور دہلی کے چیف الیکٹورل افسر ووٹروں کو نوٹس جاری کرنے کی مخصوص وجوہات مناسب طریقے سے ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ انجلی بھاردواج اور امرتا جوہری کی جانب سے دائر اس عرضی میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ووٹروں کی تفصیلات کو ’’منطقی تضادات‘‘ کے زمرے میں رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ضوابط، تعریفیں، کمپیوٹر پر مبنی طریقۂ کار اور کام کرنے کے طریقے عوام کے سامنے لائے جائیں۔

سماعت کے دوران عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ یہ عمل جس طریقے سے کیا جارہا ہے وہ ’’حیران کن‘‘ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 33 لاکھ سے زیادہ ووٹروں کو معمولی وجوہات کی بنیاد پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ بھوشن نے کہا کہ ان نوٹس کی وجہ سے ووٹروں کو عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ انہیں مبینہ تضادات دور کرنے کے لیے کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ 12 دستاویزات میں سے کوئی ایک دستاویز جمع کرانا ضروری ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی ایس نائیڈو نے اس دلیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عرضی گزاروں نے کسی مخصوص معاملے کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کمیشن نے کام کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے نمٹنے کے لیے عملے کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور نوٹس میں وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔ نائیڈو نے کہا کہ کمیشن نے حال ہی میں ایک پریس نوٹ جاری کرکے ان مسائل پر اپنی پوزیشن واضح کی ہے جنہیں عرضی گزاروں نے اٹھایا ہے۔ اس کے بعد بنچ نے پوچھا کہ اتنی بڑی تعداد میں نوٹس جاری کرنے کے لیے کتنے بوتھ لیول افسران (بی ایل او) تعینات کیے گئے ہیں۔

جسٹس باگچی نے سوال کیا، ’’آپ نے تقریباً 30 لاکھ نوٹس بھیجے ہیں۔ کتنے بی ایل او تعینات کیے گئے ہیں؟‘‘ نائیڈو نے بتایا کہ اس عمل کے لیے تقریباً 14,000 سے 15,000 بی ایل او اور 1,200 الیکٹورل رجسٹریشن افسران (ای آر او) تعینات کیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 31 اگست کو دہلی کی مسودہ ووٹر فہرست جاری کی تھی۔ اس میں کل تقریباً 1.45 کروڑ ووٹروں میں سے 47 لاکھ کے نام ہٹا دیے گئے تھے۔

ایس آئی آر کے تحت جاری اس مسودہ فہرست کے مطابق دہلی میں تقریباً ہر تین میں سے ایک ووٹر کا نام فہرست سے خارج کیا گیا تھا۔ کمیشن نے کہا تھا کہ ایس آئی آر کے دوران 43.32 لاکھ سے زیادہ ووٹر یا تو اپنا مقام تبدیل کرچکے تھے یا اپنے درج شدہ پتے پر موجود نہیں تھے۔ کمیشن کے مطابق 2.82 لاکھ سے زیادہ ووٹروں کی موت ہوچکی تھی، جبکہ 1.41 لاکھ سے زیادہ ووٹر ایک سے زیادہ مقامات پر رجسٹرڈ پائے گئے تھے۔