نئی دہلی: بھارتی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (آئی آئی ٹی) روڑکی کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دہلی کے محفوظ تاریخی آثار کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔ نظام الدین میں ایک فلائی اوور کے دباؤ کی وجہ سے ایک تاریخی نالے کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ اگریسین کی باولی کے قریب بنیادوں کی کھدائی سے زیرِ زمین آبی ڈھانچے کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ان تمام تاریخی مقامات پر یکساں ’ہیریٹیج بفر‘ ضوابط نافذ ہیں۔ ہیریٹیج بفر سے مراد کسی تاریخی یا محفوظ عمارت کے اردگرد مقرر کیا گیا وہ علاقہ ہے جہاں تعمیرات اور دیگر سرگرمیوں پر مخصوص پابندیاں ہوتی ہیں، تاکہ تاریخی ورثے کو نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔
اس سال مارچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں دہلی کے مرکزی حکومت کے زیرِ تحفظ نو تاریخی مقامات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان مقامات کو لاحق خطرات کی نوعیت اور شدت ہر جگہ کے مخصوص ماحول اور اردگرد کی شہری صورتحال کے لحاظ سے مختلف ہے۔
تحقیق کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے ہر مقام کی منفرد خصوصیات اور اس کی حساسیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، بجائے اس کے کہ تمام مقامات پر یکساں اصول نافذ کیے جائیں۔ قدیم یادگار اور آثارِ قدیمہ و باقیات ایکٹ (اے ایم اے ایس آر) کے تحت مرکزی حکومت کے زیرِ تحفظ تاریخی مقامات کے اردگرد 100 میٹر کا ممنوعہ علاقہ اور اس کے بعد 200 میٹر کا باقاعدہ ضابطوں کے تحت آنے والا علاقہ مقرر کیا گیا ہے۔ تحقیق میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ تاریخی مقامات کے اردگرد مقرر کی گئی یہ حدود وہاں کی مختلف شہری صورتحال اور مقامی حالات کے مطابق ہیں یا نہیں۔