دہلی فسادات: طاہر حسین قصوروار قرار، 12 دیگر ملزمان بری

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 10-10-2026
دہلی فسادات: طاہر حسین قصوروار قرار، 12 دیگر ملزمان بری
دہلی فسادات: طاہر حسین قصوروار قرار، 12 دیگر ملزمان بری

 



نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق دیال پور علاقے کے ایک معاملے میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کے سابق کونسلر طاہر حسین کو فساد بھڑکانے کے لیے اکسانے کا قصوروار قرار دیا ہے۔ عدالت نے ہفتے کے روز اس معاملے میں دیگر 12 ملزمان کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔

ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے طاہر حسین کو تعزیراتِ ہند کی دفعہ 147، جو فساد کرنے کی سزا سے متعلق ہے، کے ساتھ دفعہ 109، یعنی اکسانے کے جرم کے تحت قصوروار قرار دیا۔ تاہم، عدالت نے انہیں دیگر الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت نے طاہر حسین کی سزا کے معاملے میں دلائل سننے کے لیے 16 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت کے تفصیلی حکم کا انتظار ہے۔ اس معاملے میں کل 13 افراد ملزم تھے۔ طاہر حسین کے علاوہ ان میں محمد شاداب، شاہ عالم، ریاضت علی، گل فام، راشد، محمد ریحان، محمد عابد، ارشد قیوم، ارشاد احمد، دیپک سنگھ سینی، نوین اور مہک سنگھ شامل تھے۔

ان تمام ملزمان پر فساد کرنے، املاک کو نقصان پہنچانے، آگ لگا کر نقصان پہنچانے اور مجرمانہ سازش رچنے سمیت کئی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ عدالت نے طاہر حسین کے 12 ساتھی ملزمان کو تمام الزامات سے بری کر دیا، جبکہ سابق کونسلر کو دو الزامات میں قصوروار ٹھہرایا اور باقی الزامات سے بری کر دیا۔

جولائی میں دہلی کی ایک عدالت نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل سے متعلق ایک معاملے میں طاہر حسین اور چار دیگر افراد کو قصوروار قرار دیا تھا۔ یہ معاملہ انکت شرما کے والد رویندر کمار کی شکایت پر دیال پور پولیس تھانے میں درج ایف آئی آر سے متعلق ہے۔ اس معاملے میں نام سامنے آنے کے بعد عام آدمی پارٹی نے طاہر حسین کو معطل کر دیا تھا۔ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں 53 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے تھے اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا تھا۔