دہلی فسادات: ملزم کو ضمانت کی شرائط میں راحت، ہفتے میں ایک بار حاضری کا حکم

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
دہلی فسادات: ملزم کو ضمانت کی شرائط میں راحت، ہفتے میں ایک بار حاضری کا حکم
دہلی فسادات: ملزم کو ضمانت کی شرائط میں راحت، ہفتے میں ایک بار حاضری کا حکم

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے ملزم میران حیدر کو ضمانت کی شرائط میں جمعہ کو راحت دیتے ہوئے اسے ہفتے میں دو بار کے بجائے ہر ہفتے صرف ہفتہ کے روز کرائم برانچ کے پولیس تھانے میں حاضری لگانے کی ہدایت دی۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپل ایم پنچولی کی بنچ نے کہا کہ چونکہ حیدر کی شادی 17 اکتوبر کو ہونے والی ہے، اس لیے اسے 17 اور 24 اکتوبر کو حاضری لگانے سے استثنیٰ دیا جاتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ضمانت کی باقی شرائط مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک برقرار رہیں گی۔ ان شرائط میں سوشل میڈیا پر کوئی بھی پوسٹ نہ کرنا، کسی پروگرام میں شرکت نہ کرنا اور کسی اجتماع، ریلی یا میٹنگ سے خطاب نہ کرنا شامل ہے۔ یہ پابندی جسمانی طور پر ہونے والی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ذرائع سے ہونے والی سرگرمیوں پر بھی لاگو ہوگی۔

عدالت نے کہا کہ حیدر کو ہر ہفتے ہفتہ کے روز صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے کے درمیان کرائم برانچ کے پولیس تھانے میں اپنی حاضری لگانی ہوگی۔ دہلی پولیس کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے حیدر کی ضمانت کی شرائط میں نرمی کی مخالفت نہیں کی۔ حیدر کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل سدھارتھ اگروال نے اس کی شادی کے پیش نظر ضمانت کی شرائط میں راحت دینے کی درخواست کی۔

انہوں نے دلیل دی کہ مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت اس معاملے میں اسے راحت نہیں دے گی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ حیدر کو ہفتے میں دو بار، یعنی پیر اور جمعرات کو صبح 10 بجے سے دوپہر 12 بجے کے درمیان دہلی پولیس کی کرائم برانچ کے تھانہ انچارج کے سامنے حاضری لگانی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے 5 جنوری کو 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے معاملے میں حیدر کے ساتھ کارکن گل فشاں فاطمہ، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو بھی ضمانت دی تھی۔ عدالت نے اس وقت ضمانت کے ساتھ 11 شرائط عائد کی تھیں اور کہا تھا کہ ان شرائط کا غلط استعمال کرنے کی صورت میں ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔ شمال مشرقی دہلی میں فروری 2020 کے فسادات شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہری رجسٹر (این آر سی) کے خلاف جاری احتجاج کے دوران ہوئے تھے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔