نئی دہلی، 10 اکتوبر: انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور خصوصی نظرثانی مہم (SIR) کے خلاف 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کے پیش نظر دہلی پولیس نے قومی دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور انڈیا بلاک کی جانب سے اعلان کردہ احتجاج کے پیش نظر شہر کے اہم داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ دہلی کی سرحدوں پر گاڑیوں کی جانچ بھی تیز کر دی گئی ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق، احتجاج کے لیے اجازت نہیں دی گئی ہے۔ جنتر منتر، دہلی-نوئیڈا سرحد، بدرپور بارڈر اور دیگر حساس مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ دہلی-ہریانہ اور دہلی-اتر پردیش سرحدوں پر بھی جانچ مہم چلائی جا رہی ہے، تاکہ امن و قانون کی صورت حال برقرار رکھی جا سکے۔
سی جے پی نے ہفتہ کو احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مظاہرین کے مطالبات میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر مہم کی مخالفت شامل ہے۔ یہ احتجاج انتخابی فہرستوں میں مبینہ تبدیلیوں اور ’ووٹ چوری‘ کے الزامات پر اپوزیشن اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کے پس منظر میں منعقد ہونا تھا۔
پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کیا
دہلی پولیس نے جمعہ کو جنتر منتر پر مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے علاقے میں ماضی میں پیدا ہونے والی امن و قانون کی صورت حال کا حوالہ دیا۔ پولیس کے ایک سرکاری خط کے مطابق، پہلے ایک روزہ احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن مظاہرہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس دوران 200 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے 2,000 سے زائد افراد نے احتجاج میں شرکت کی، جس کے نتیجے میں تشدد کے واقعات پیش آئے۔
پولیس نے لوگوں سے مجوزہ احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے امن برقرار رکھنے اور کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے تعاون کی درخواست کی ہے۔
اہم راستوں پر پولیس تعینات
شمالی دہلی کی ڈپٹی کمشنر پولیس نہاریکا بھٹ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے داخلی اور خارجی راستوں پر حفاظتی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، نئی دہلی میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہے اور مجوزہ احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی کوشش ہے کہ کوئی سماج دشمن عنصر نئی دہلی کی جانب نہ بڑھے اور امن و قانون برقرار رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی انتظامات کے باوجود روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ دہلی یونیورسٹی کی کلاسیں بھی طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوں گی۔
نہاریکا بھٹ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں تاکہ شہر میں امن و امان برقرار رہے اور دہلی کو محفوظ رکھا جا سکے۔
اتر پردیش پولیس سے رابطہ
مشرقی رینج کے جوائنٹ پولیس کمشنر ملند کمبھارے نے بتایا کہ ان کی رینج کے تینوں اضلاع میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ سرحدوں پر جانچ مہم جاری ہے اور کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے اتر پردیش پولیس کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس لوگوں کو احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے بارے میں آگاہ کر رہی ہے اور ان سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اگر غازی آباد یا نوئیڈا سے لوگوں کے احتجاج میں شرکت کے لیے آنے کا امکان ہوا تو سرحدوں پر جانچ کے دوران انہیں روکا جا سکتا ہے۔
شاہدرہ کے ڈپٹی کمشنر پولیس راجندر پرساد مینا نے بھی کہا کہ سرحدوں پر فورس تعینات ہے اور شہر کے دیگر علاقوں میں نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے احتجاج کو غیر قانونی اور ممنوع قرار دیتے ہوئے لوگوں سے اس میں شرکت نہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ خلاف ورزی کی صورت میں پولیس کارروائی کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، مساجد سے اعلانات کرانے کی درخواست بھی کی گئی تھی اور اس پر عمل کیا گیا ہے۔
ہریانہ-دہلی سرحد پر بھی چوکس پولیس
ہریانہ اور دہلی کی سرحد پر بھی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ بہادر گڑھ پولیس کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے، جبکہ مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کرکے باہر سے آنے والے افراد کی جانچ کی جا رہی ہے۔
اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے ناکہ انچارج اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر راج نیش کمار نے بتایا کہ مجوزہ احتجاج کے پیش نظر چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں اور اگلے احکامات تک جانچ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی ٹیمیں مختلف شفٹوں میں تعینات ہیں اور کسی ناخوش گوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے تیار رہیں گی۔ اس سلسلے میں دہلی پولیس کا تعاون بھی حاصل ہے۔
انڈیا بلاک نے صدر کو میمورنڈم پیش کیا
سکیورٹی انتظامات کے درمیان انڈیا بلاک کے رہنماؤں نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کرکے مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے معاملے پر ایک میمورنڈم پیش کیا۔ اپوزیشن نے اس میں چار اہم مطالبات اٹھائے ہیں۔
میمورنڈم میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور چیف الیکشن کمشنر و دیگر الیکشن کمشنروں کو تاحیات استثنا فراہم کرنے والے 2023 کے قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایس آئی آر مہم فوری طور پر روکنے اور انتخابی فہرستوں سے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے حذف کیے گئے 13.30 کروڑ ووٹروں کے نام بحال کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔
اپوزیشن نے تمام انتخابات میں کاغذی بیلٹ پیپر دوبارہ متعارف کرانے اور گزشتہ دو برس کے دوران ان اسمبلی انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جن میں اس کے مطابق ووٹ چوری کے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں