دہلی پولیس بینک ملازمین کی یونین کو احتجاج کے لیے جگہ فراہم کرے: ہائی کورٹ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 25-09-2026
دہلی پولیس بینک ملازمین کی یونین کو احتجاج کے لیے جگہ فراہم کرے: ہائی کورٹ
دہلی پولیس بینک ملازمین کی یونین کو احتجاج کے لیے جگہ فراہم کرے: ہائی کورٹ

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو پولیس سے کہا کہ وہ ’یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز دہلی اسٹیٹ‘ کو اگلے ہفتے پرامن دھرنا دینے کے لیے کوئی مناسب جگہ فراہم کرے۔ جسٹس امیت مہاجن نے پولیس انتظامیہ سے کہا کہ وہ یونین کی اس درخواست پر فیصلہ کرے، جس میں کسی متبادل مقام پر پرامن احتجاج کی اجازت مانگی گئی ہے۔ اس سے قبل پولیس کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پریتیش سبھروال نے ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت دینے سے ’’امن و امان کی صورت حال‘‘ پیدا ہو سکتی ہے۔ ہائی کورٹ نے زبانی طور پر کہا، ’’انہیں کوئی جگہ فراہم کیجیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں کوئی دوسری جگہ دے دی جائے۔

اس کے لیے انہیں عدالت کا رخ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ جسٹس مہاجن نے پولیس محکمہ سے کہا کہ وہ پرامن احتجاج کے لیے کوئی متبادل جگہ فراہم کرنے کے بارے میں پیر تک فیصلہ کرے اور درخواست گزار یونین کو اس کی اطلاع دے۔ اپنی عرضی میں ’یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز دہلی اسٹیٹ‘ نے ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو 28 سے 30 ستمبر کے درمیان جنتر منتر یا دہلی میں کسی دوسری جگہ پر پرامن دھرنا دینے کی اجازت دینے کی ہدایت دے۔

درخواست گزار یونین نے کہا ہے کہ وہ ’بینکنگ صنعت‘ میں ملازمین کی یونینوں کا ایک مرکزی پلیٹ فارم ہے اور ملازمین کی سروس کی شرائط پر مذاکرات میں زیادہ تر بینک ملازمین اور افسران کی نمائندگی کرتا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ پولیس انتظامیہ نے اس سے قبل بینک ملازمین کی تحریک کو روکنے کے لیے 11 اور 18 ستمبر کو دھرنا دینے کی اجازت دینے سے آخری وقت میں من مانے طریقے سے انکار کر دیا تھا۔ یونین نے الزام لگایا ہے کہ اگلے ہفتے احتجاج کرنے کی اس کی نئی درخواست پر بھی پولیس نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

’یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز‘ نے بینک ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد مطالبات کو لے کر 28 سے 30 ستمبر تک ملک گیر بینک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ ان مطالبات میں ہفتے میں پانچ دن کام کرنے کا نظام نافذ کرنا بھی شامل ہے۔ دیگر مطالبات میں پنشن میں بہتری اور اس کی تازہ کاری، تمام پنشن یافتگان کے لیے مہنگائی بھتے کے یکساں فارمولے کا نفاذ اور نیشنل پنشن سسٹم کے تحت آنے والے ملازمین کو پرانی پنشن اسکیم اختیار کرنے کا موقع دینا شامل ہے۔