نئی دہلی:کانگریس کی جانب سے سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ کی اپیل کے پیش نظر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پیر کو دہلی میٹرو کے چھ اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک بند رہیں گے۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے یہ اطلاع دی ہے۔
متاثرہ اسٹیشنوں میں راجیو چوک، سینٹرل سکریٹریٹ اور پٹیل چوک سمیت چھ اسٹیشن شامل ہیں۔ تاہم، ڈی ایم آر سی کے مطابق ان اسٹیشنوں پر میٹرو کی ایک لائن سے دوسری لائن میں جانے کی سہولت (انٹرچینج) دستیاب رہے گی۔
احتجاج کے پیش نظر قومی راجدھانی میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ دہلی ٹریفک پولیس نے بھی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے متعدد مقامات پر ٹریفک متاثر ہونے اور راستوں میں تبدیلی کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
جن چھ میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند رہیں گے، ان میں پٹیل چوک، جن پتھ، راجیو چوک، منڈی ہاؤس، سینٹرل سکریٹریٹ اور بارہ کھمبا روڈ شامل ہیں۔ڈی ایم آر سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سکیورٹی ایجنسیاں صورت حال کا جائزہ لیں گی اور ضرورت کے مطابق مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
ڈی ایم آر سی نے اپنے بیان میں کہا، ’’سکیورٹی وجوہات کی بنا پر 12 اکتوبر 2026 کو صبح 6 بجے سے شام 4 بجے تک درج ذیل میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند رہیں گے۔ سکیورٹی ایجنسیاں صورت حال کا جائزہ لیں گی اور ضرورت کے مطابق مزید ہدایات جاری کی جائیں گی۔ تاہم، متعلقہ تمام اسٹیشنوں پر انٹرچینج کی سہولت دستیاب رہے گی۔‘‘
دہلی ٹریفک پولیس کی ایڈوائزری، کئی راستوں پر آمد و رفت متاثر ہونے کا امکان
دریں اثنا، دہلی ٹریفک پولیس نے پیر کے روز نئی دہلی اور وسطی دہلی سمیت قومی راجدھانی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کی ممکنہ بندش اور راستوں میں تبدیلی کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کی ہے۔
ایڈوائزری کے مطابق، حالات کو دیکھتے ہوئے صبح 6 بجے سے ٹریفک کا رخ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ نئی دہلی اور وسطی دہلی کے متعدد اہم چوراہوں، فلائی اوورز اور سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کا امکان ہے۔
دہلی ٹریفک پولیس نے اپنے بیان میں کہا، ’’امن و قانون کی صورت حال کے پیش نظر 12 اکتوبر 2026 کو دہلی کے درج ذیل راستوں پر ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ صورت حال کے مطابق صبح 6 بجے سے راستوں میں تبدیلی کی جائے گی۔ عام لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ درج ذیل مقامات اور ان کے آس پاس کے راستوں پر آمد و رفت متاثر رہ سکتی ہے۔‘‘
پولیس نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ تاخیر کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے سفر کی منصوبہ بندی کریں۔ سکیورٹی ایجنسیاں دن بھر صورت حال کا جائزہ لیتی رہیں گی۔
ایس آئی آر معاملے پر اپوزیشن کا احتجاج
کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اور ارکان پارلیمنٹ پیر کی صبح سپریم کورٹ کی جانب احتجاجی مارچ کرنے والے ہیں۔ یہ احتجاج ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (Special Intensive Revision—SIR) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔
انڈیا بلاک میں شامل کئی جماعتوں کے رہنماؤں کی اس مارچ میں شرکت متوقع ہے۔ اپوزیشن رہنما اس دوران ایس آئی آر کے عمل سے متعلق اپنے خدشات اور مطالبات پیش کریں گے