نئی دہلی، :دہلی میٹرو میں بزرگ شہریوں کے لیے مخصوص نشست پر تنازع کے بعد مبینہ طور پر مارپیٹ کے نتیجے میں 48 سالہ شخص کی موت ہوگئی۔ اس معاملے میں ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر اور اس کے بیٹے کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، یہ واقعہ 8 اکتوبر کو سپریم کورٹ میٹرو اسٹیشن پر پیش آیا۔
پولیس کے مطابق، ملزمین کی شناخت 65 سالہ سنجے پرتاپ سنگھ، جو ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں، اور ان کے 36 سالہ بیٹے سدھارتھ سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
متوفی کی شناخت پون شرما کے طور پر کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق، واقعے کے وقت وہ اپنی 65 سالہ والدہ درگا شرما کے ساتھ گروگرام سے دہلی کے یمنا وہار میں واقع اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔
درگا شرما کی پولیس کو دی گئی شکایت کے مطابق، 8 اکتوبر کو شام تقریباً 4 بجے ماں بیٹے نے دوارکا سیکٹر 21 میٹرو اسٹیشن سے گھر واپسی کے لیے ٹرین میں سوار ہوکر بزرگ شہریوں کے لیے مخصوص نشست پر بیٹھ گئے۔
جب میٹرو ٹرین سپریم کورٹ میٹرو اسٹیشن پہنچی تو دو افراد اس میں سوار ہوئے۔ شکایت کنندہ نے ان میں سے ایک کو بزرگ اور دوسرے کو نوجوان بتایا۔
شکایت کے مطابق، دونوں افراد نے ماں بیٹے سے مبینہ طور پر بدتمیزی کی اور انہیں نشست خالی کرنے کے لیے کہا۔ پون نے ان کے بات کرنے کے انداز پر اعتراض کیا اور کہا کہ وہ نشست خالی کر دیں گے۔ اس کے بعد پون اور ان کی والدہ اٹھنے لگے۔
ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق، پون نے بزرگ شخص سے کچھ کہا، جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر پون کا گریبان پکڑ کر انہیں تھپڑ مار دیا۔
جب پون نے مارپیٹ پر اعتراض کیا تو بزرگ شخص کے ساتھ موجود نوجوان نے مبینہ طور پر ان کی گردن پکڑ لی اور سینے پر بار بار مکے مارے۔درگا شرما نے الزام لگایا کہ جب انہوں نے اپنے بیٹے کو بچانے اور مارپیٹ روکنے کی کوشش کی تو بزرگ ملزم نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے، جس سے وہ مداخلت نہیں کر سکیں۔
شکایت کے مطابق، اسی دوران پون اچانک میٹرو ٹرین کے فرش پر گر پڑے اور بے ہوش ہوگئے۔ مسافروں نے شور مچایا، جس کے بعد میٹرو کا عملہ موقع پر پہنچا اور پون کو اسٹریچر پر لٹایا۔ دونوں مبینہ حملہ آوروں کو بھی ٹرین سے اتار لیا گیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، بعد میں دونوں افراد کی شناخت سنجے پرتاپ سنگھ، ولد مہندر پرتاپ سنگھ، اور ان کے بیٹے سدھارتھ سنگھ کے طور پر ہوئی۔
درگا شرما اپنے بیٹے کو سینٹرلائزڈ ایکسیڈنٹ اینڈ ٹراما سروسز (CATS) کی ایمبولینس کے ذریعے لوک نائک جے پرکاش (ایل این جے پی) اسپتال لے گئیں، لیکن شکایت کے مطابق ڈاکٹروں نے اسپتال پہنچنے پر پون کو مردہ قرار دے دیا۔
طبی رپورٹ میں جسم پر چوٹوں کا ذکر
پولیس رپورٹ کے مطابق، واقعے کی اطلاع روزنامچہ (ڈی ڈی) کی اندراجات 23A، 24A اور 26A کے ذریعے ملنے کے بعد سب انسپکٹر ستیش کمار سپریم کورٹ میٹرو اسٹیشن پہنچے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ زخمی شخص کو ایمبولینس کے ذریعے ایل این جے پی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
اس کے بعد افسر اسپتال پہنچے اور دہلی کے یمنا وہار کے رہائشی پون شرما کی میڈیکو لیگل کیس (ایم ایل سی) رپورٹ حاصل کی۔
طبی رپورٹ میں پون کے دائیں گال پر کئی چھوٹے نیل، گردن کے قریب سینے پر نیل اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ایک معمولی خراش کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہ بے ہوش تھے، کسی ردعمل کا اظہار نہیں کر رہے تھے اور بیان دینے کی حالت میں نہیں تھے۔
پولیس رپورٹ میں واقعے کا وقت 8 اکتوبر کو شام تقریباً 4 بج کر 52 منٹ سے 4 بج کر 56 منٹ کے درمیان بتایا گیا ہے۔ واقعہ سپریم کورٹ میٹرو اسٹیشن پر پیش آیا تھا۔
شکایت اور طبی شواہد کا جائزہ لینے کے بعد تفتیشی افسر نے بادی النظر میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 105 اور 3(5) کے تحت مقدمہ بنتا پایا۔
متوفی کی لاش ایل این جے پی اسپتال کے مردہ خانے میں محفوظ رکھی گئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے معائنے کے لیے کرائم ٹیم اور فارنسک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم کو بھی کارروائی میں شامل کیا۔سپریم کورٹ میٹرو پولیس اسٹیشن میں 9 اکتوبر کو ایف آئی آر درج کی گئی۔ اس میں سنجے پرتاپ سنگھ اور سدھارتھ سنگھ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، دونوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔