نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے فلم ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگل‘ کے پروڈیوسروں کی عرضی پر اداکار سلمان خان سے منگل کو جواب طلب کیا ہے۔ پروڈیوسروں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ سلمان خان کی جانب سے فلم کی ریلیز روکنے کے لیے دائر مقدمے کی کارروائی پر روک لگائی جائے۔ جسٹس انوپ جے رام بھمبانی نے فلم پروڈیوسروں کی درخواست پر سلمان خان کو نوٹس جاری کیا۔
پروڈیوسروں کا کہنا ہے کہ اسی تنازع سے متعلق ایک مقدمہ پہلے ہی سلمان خان کی جانب سے دائر کیا جا چکا ہے اور وہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سلمان خان نے مبینہ طور پر اپنی زندگی سے متعلق بنائی گئی اس فلم کی ریلیز پر پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔ فلم پروڈیوسر امیت جانی نے اپنی عرضی میں دلیل دی ہے کہ موجودہ مقدمہ اور پہلے سے زیر سماعت مقدمہ دونوں ایک ہی فلم، اس کی تشہیری مواد اور اداکار کے شخصی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق ہیں۔
اس لیے ایک ہی معاملے پر دو الگ الگ مقدمات چلانا مناسب نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ سلمان خان اپنے شخصی حقوق کے تحفظ کے لیے پہلے بھی ایک مقدمہ دائر کر چکے ہیں، جس میں عدالت نے 11 دسمبر 2025 کو یک طرفہ عبوری حکم امتناع جاری کیا تھا۔ بعد میں سلمان خان نے مجوزہ فلم کے سلسلے میں خاص طور پر عبوری پابندی عائد کرنے کی درخواست بھی دائر کی، جو فی الحال زیر التوا ہے۔
فلم پروڈیوسروں کا کہنا ہے کہ نئے مقدمے میں فلم اور اس کے ٹیزر کی ریلیز اور نمائش روکنے کی جو اہم درخواست کی گئی ہے، وہ بڑی حد تک اسی نوعیت کی ہے جو پہلے کی قانونی کارروائی میں کی گئی تھی۔ اس سے قبل 27 جولائی کو ایک رکنی بنچ نے سلمان خان کے اعتراض کے بعد آن لائن پلیٹ فارم سے فلم کا ٹیزر اور اس سے متعلق دیگر پوسٹ ہٹانے کا عبوری حکم دیا تھا۔
دوسری جانب فلم پروڈیوسروں کا کہنا ہے کہ فلم ابھی ریلیز کے لیے تیار ہی نہیں ہے، کیونکہ اسے سنسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ ملنا باقی ہے اور اس کا ٹریلر بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔