یاسین ملک کی عدالت میں پیشی نہ ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
یاسین ملک کی عدالت میں پیشی نہ ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی
یاسین ملک کی عدالت میں پیشی نہ ہونے پر دہلی ہائی کورٹ نے رپورٹ طلب کر لی

 



نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے دہشت گردی کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے کے معاملے میں علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کی جیل سے ورچوئل پیشی نہ ہونے پر بدھ کو جیل حکام سے رپورٹ طلب کی۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس ارون بھردواج کی بنچ نے کہا کہ یاسین ملک کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جانا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بنچ نے کہا، ’’جواب دہندہ یاسین ملک کو ہمارے سامنے ورچوئل طور پر پیش کیا جانا تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں متعلقہ جیل سپرنٹنڈنٹ سے رپورٹ طلب کی جائے۔‘‘

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک تہاڑ جیل میں بند ہیں، جہاں وہ اس معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 9 دسمبر کو مقرر کرتے ہوئے ہدایت دی کہ اس دن یاسین ملک کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے کارروائی میں شامل کیا جائے۔ ہائی کورٹ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں یاسین ملک کو دہشت گردی کے لیے مالی اعانت فراہم کرنے کے معاملے میں عمر قید کی سزا کے بجائے سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یاسین ملک پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ این آئی اے کی سزا بڑھانے کی درخواست کے خلاف عدالت میں خود پیش ہو کر دلائل دینا چاہتے ہیں۔ 29 مئی 2023 کو ہائی کورٹ نے این آئی اے کی عرضی پر یاسین ملک کو نوٹس جاری کیا تھا اور اگلی تاریخ پر ان کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے بعد جیل حکام نے درخواست دائر کرکے انہیں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت مانگی تھی۔ حکام نے دلیل دی تھی کہ یاسین ملک ’’انتہائی خطرناک قیدی‘‘ ہیں اور امن و امان اور سلامتی برقرار رکھنے کے لیے انہیں جسمانی طور پر عدالت میں لانا مناسب نہیں ہوگا۔ ہائی کورٹ نے یہ درخواست منظور کر لی تھی۔

اس معاملے میں 24 مئی 2022 کو دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے یاسین ملک کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ یاسین ملک نے یو اے پی اے سمیت عائد الزامات کا اعتراف کیا تھا، جس کے بعد انہیں مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ این آئی اے نے اس سزا کے خلاف اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ محض جرم قبول کر لینے اور مقدمے کا سامنا نہ کرنے کی وجہ سے کسی دہشت گرد کو عمر قید کی سزا تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔

ایجنسی نے سزائے موت دینے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر خطرناک دہشت گردوں کو جرم قبول کرنے کی بنیاد پر سزائے موت سے بچنے دیا گیا تو سزا دینے کی پالیسی پوری طرح بے اثر ہو جائے گی اور دہشت گردوں کو سزائے موت سے بچ نکلنے کا راستہ مل جائے گا۔ این آئی اے کی اپیل کے جواب میں یاسین ملک نے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے ایک خفیہ رابطہ نظام میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق، اس دوران انہوں نے یکے بعد دیگرے کئی وزرائے اعظم، خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں اور بڑے کاروباری شخصیات کے ساتھ مل کر جموں و کشمیر میں امن قائم کرنے کی کوشش کی۔

یاسین ملک نے 85 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں اپنے سفر کی تفصیلات بیان کی تھیں، جن میں اسکول کے زمانے سے لے کر دہشت گردوں سے روابط اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں تک کے واقعات شامل تھے۔ این آئی اے نے یاسین ملک کے جواب پر اپنا ردعمل داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ سینئر سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کے نام لینے سے مجرم اپنے جرائم سے بری نہیں ہو جاتا اور نہ ہی حافظ سعید جیسے دہشت گردوں سے اس کے روابط کی نفی ہوتی ہے۔

ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ یاسین ملک متعدد دہشت گرد تنظیموں اور لشکر طیبہ کے حامیوں سے قریبی رابطے میں تھے۔ این آئی اے کے مطابق، وہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے اور ہمدردی پیدا کرنے کے لیے سینئر سیاست دانوں، صحافیوں، غیر ملکی وفود اور سرکاری افسروں کے نام لیتے رہے۔ یاسین ملک کو سزائے موت دینے کی این آئی اے کی درخواست مسترد کرنے والی خصوصی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ان کے جرائم ’’ہندوستان کے تصور کی بنیاد پر ضرب لگانے‘‘ کے مترادف تھے اور ان کا مقصد جموں و کشمیر کو زبردستی ہندوستان سے الگ کرنا تھا۔