ساحلی علاقوں میں موسلادھار بارش، سمندر میں اونچی لہریں اور سیلاب کا خطرہ؛ 14 اضلاع میں فلیش فلڈ الرٹ جاری، پروازیں بھی متاثر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 28-10-2026
ساحلی علاقوں میں موسلادھار بارش، سمندر میں اونچی لہریں اور سیلاب کا خطرہ؛ 14 اضلاع میں فلیش فلڈ الرٹ جاری، پروازیں بھی متاثر
ساحلی علاقوں میں موسلادھار بارش، سمندر میں اونچی لہریں اور سیلاب کا خطرہ؛ 14 اضلاع میں فلیش فلڈ الرٹ جاری، پروازیں بھی متاثر

 



امراوتی (آندھرا پردیش): خلیج بنگال سے اٹھنے والے شدید سمندری طوفان ارنب کے باعث آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں، موسلادھار بارش اور سمندر میں بلند لہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمہ موسمیات نے بدھ کو بتایا کہ طوفان کے بادلوں کے پچھلے حصے کے آئندہ ایک گھنٹے میں آندھرا پردیش کے ساحل میں داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے بعد اس کے ساحل سے ٹکرانے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کا مرکز آندھرا پردیش اور یانم کے ساحل کے قریب، یانم کے جنوب میں واقع تھا۔ محکمہ نے کہا کہ طوفان کے بادلوں کا پچھلا حصہ آئندہ ایک گھنٹے میں ساحلی علاقے میں داخل ہوگا، جس سے ساحل سے ٹکرانے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

امراوتی محکمہ موسمیات کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کے ناگارتنا نے بدھ کی صبح وجے واڑہ میں بتایا کہ خلیج بنگال میں تشکیل پانے والا یہ شدید سمندری طوفان گزشتہ رات باپٹلا اور یانم کے درمیان ساحل سے ٹکرایا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ساحلی علاقوں میں ہواؤں کی رفتار 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی ہے، جب کہ آئندہ تین گھنٹوں میں ہوا کے جھکڑ 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتے ہیں۔

طوفان کی رفتار کم، ساحلی علاقوں میں خطرہ بڑھا

ڈاکٹر ناگارتنا کے مطابق طوفان کی رفتار سست پڑ گئی ہے، جس کے باعث ساحلی علاقوں میں اس کے اثرات زیادہ دیر تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے آندھرا پردیش اور جنوبی اوڈیشہ کے ساحلی علاقوں کے لیے انتہائی شدید موسمی الرٹ جاری کیا ہے۔

کاکیناڈا اور یانم کے ساحلوں پر سمندر انتہائی بپھر گیا ہے اور لہریں معمول کی سطح سے تقریباً ڈھائی میٹر بلند اٹھ رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات نے شدید سمندری طغیانی کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ خدشہ ہے کہ سمندر کا پانی کاکیناڈا اور یانم کے نشیبی علاقوں میں داخل ہو سکتا ہے۔

حکام نے ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو انتہائی چوکس رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

14 اضلاع میں سیلاب کا الرٹ

محکمہ موسمیات نے آندھرا پردیش کے 14 اضلاع میں اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کا الرٹ جاری کیا ہے۔ ان میں باپٹلا، گنٹور، کرشنا، این ٹی آر، ایلورو، مغربی گوداوری، کوناسیما، مشرقی گوداوری، کاکیناڈا، آلوری، انکاپلی، وشاکھاپٹنم، وجیا نگرم اور سریکاکولم کے علاوہ پاروتی پورم مانیام ضلع شامل ہیں۔

محکمہ نے خبردار کیا ہے کہ ان اضلاع میں کسی بھی وقت اچانک سیلاب آ سکتا ہے۔ ڈاکٹر ناگارتنا نے لوگوں سے اپیل کی کہ ساحل سے ٹکرانے کا عمل مکمل ہونے اور تیز ہواؤں کے تھمنے تک گھروں کے اندر رہیں۔

انہوں نے لوگوں کو بجلی کے کھمبوں، خستہ حال عمارتوں اور بڑے درختوں کے نیچے کھڑے ہونے سے بھی منع کیا اور ہدایت دی کہ سرکاری موسمی انتباہات پر نظر رکھیں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔

وشاکھاپٹنم میں سمندر بپھرا، ساحل پر عوام کی آمدورفت محدود

وشاکھاپٹنم کے آر کے بیچ پر طوفان ارنب کے اثر سے تیز ہوائیں چلیں اور سمندر میں اونچی لہریں اٹھتی رہیں۔ سمندر کی خراب صورتِ حال کے پیش نظر پولیس نے احتیاطی طور پر ساحل پر لوگوں کی آمدورفت محدود کر دی ہے۔ ماہی گیروں کو بھی سمندر میں نہ جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق شدید سمندری طوفان کا مرکز ساحل کے انتہائی قریب تھا اور ساحل سے ٹکرانے کا عمل آئندہ چند گھنٹوں تک جاری رہنے کا امکان تھا۔

طوفان کے باعث وشاکھاپٹنم میں آندھرا یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ فار ویمن کے قریب ایک درخت بھی جڑ سے اکھڑ گیا۔

وجے واڑہ میں موسلادھار بارش، سڑکوں پر پانی جمع

آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے پی ایس ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طوفان ارنب کی نقل و حرکت اور اس کے اثرات پر مسلسل نظر رکھی گئی۔ حکام ساحلی اضلاع میں طوفان کی پیش رفت کی نگرانی کر رہے ہیں، جہاں کئی علاقوں میں تیز ہواؤں اور موسلادھار بارش کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

طوفان کے باعث وجے واڑہ شہر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں گرج چمک، آسمانی بجلی اور تیز ہواؤں کے ساتھ شدید بارش ہوئی۔ موسلادھار بارش کے بعد شہر کے کئی نشیبی علاقوں اور اہم سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا۔

حکام نے بتایا کہ بدھ کے روز بھی درمیانی سے شدید بارش کا امکان ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ انتہائی ضروری کام کے علاوہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور درختوں یا بجلی کے کھمبوں کے نیچے کھڑے ہونے سے گریز کریں۔

حکومت نے راحت اور بچاؤ کے انتظامات کیے

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے منگل کو کہا تھا کہ ریاستی حکومت صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور طوفان سے نمٹنے کے لیے وسیع پیمانے پر انتظامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 2,199 طوفان پناہ گاہوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے منصوبے تیار ہیں۔ قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی 12 اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی 10 ٹیمیں 14 اضلاع میں تعینات کی گئی ہیں۔

حکومت نے طبی ٹیموں، ایمبولینسوں، ہنگامی طبی بستروں اور ضروری اشیا کا بھی انتظام کیا ہے۔ ریاست میں 1,087 طبی ٹیمیں تیار رکھی گئی ہیں، جب کہ 8,281 ہنگامی طبی بستروں اور 1,274 ایمبولینسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔

احتیاطی اقدام کے طور پر حاملہ خواتین کو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کے ٹینکروں، جنریٹروں، آر او پلانٹس اور گرے ہوئے درختوں کو ہٹانے اور سڑکوں پر آمدورفت بحال کرنے کے لیے ضروری مشینری کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق آر ٹی جی ایس سینٹر اور اے پی ایس ڈی ایم اے چوبیس گھنٹے صورتِ حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

طوفان کے باعث پروازیں بھی متاثر

سمندری طوفان ارنب کے باعث آندھرا پردیش میں فضائی خدمات بھی متاثر ہوئی ہیں۔ وشاکھاپٹنم ہوائی اڈے پر 27 اکتوبر کی دوپہر سے پروازیں معطل کر دی گئی تھیں، جب کہ وجے واڑہ اور راجمندری ہوائی اڈوں پر شام سات بجے کے بعد پروازوں کی آمدورفت روک دی گئی۔

ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس، انڈیگو اور آکاسا ایئر نے متعدد پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا، جب کہ الائنس ایئر کی خدمات معمول کے مطابق جاری رہنے کی اطلاع دی گئی۔

وزارتِ شہری ہوا بازی نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ ہوائی اڈے کے لیے روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی تازہ صورتِ حال کی تصدیق کر لیں۔ وزارت نے ایئر لائنز سے یہ بھی کہا ہے کہ متاثرہ مسافروں کو ضروری مدد فراہم ک