نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ڈاکٹروں پر حملے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تھانے ضلع کے ایک میونسپل اسپتال میں ڈاکٹروں کے ساتھ مارپیٹ کے ملزم شیوسینا کونسلر رمیش مہاتر ے کو ضمانت دینے کے بمبئی ہائی کورٹ کے حکم پر پیر کو روک لگا دی۔ عدالت نے کونسلر کو تین دن کے اندر خودسپردگی کرنے کی ہدایت بھی دی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے مہاراشٹر حکومت کی اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرلیا۔
بنچ نے کہا، ’’واضح اور سخت پیغام جانا چاہیے کہ طبی شعبے سے وابستہ لوگوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ وہ لوگوں کی خدمت کرتے ہیں اور ان پر اس طرح کا حملہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ سپریم کورٹ نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ مہاتر ے کے معاملے کے بعد اسی سیاسی جماعت سے وابستہ ایسا ہی ایک اور واقعہ بھی سامنے آیا تھا۔
مہاتر ے کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے دلیل دی کہ اس معاملے میں دو گواہوں کی گواہی مکمل ہوچکی ہے۔ شکایت کنندہ خاتون ڈاکٹر سے 3 اکتوبر کو جرح کی جانی ہے۔ مقدمے کی سماعت شروع ہوچکی ہے اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں آرہی ہے۔ بنچ نے کہا کہ ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مہاتر ے اس معاملے سمیت 19 مجرمانہ مقدمات میں ملزم رہے ہیں۔ اس پر دوے نے دلیل دی کہ یہ تمام مقدمات سیاسی محرکات کی بنیاد پر درج کیے گئے تھے اور ان میں سے 18 مقدمات میں مہاتر ے کو بری کیا جاچکا ہے۔
ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق مقدمے کی جلد سماعت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس ہدایت پر کوئی تبصرہ نہیں کر رہی ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے 7 اگست کو مہاتر ے کو ضمانت دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مبینہ مارپیٹ کے اس معاملے میں چار دیگر ملزمان کو بھی ضمانت دے دی تھی۔ یہ واقعہ 6 جولائی کو شاستری نگر اسپتال میں پیش آیا تھا۔ ایک حاملہ خاتون کے علاج میں مبینہ تاخیر پر اہل خانہ کی جانب سے الزامات عائد کیے جانے کے بعد مہاتر ے اور دیگر ملزمان اسپتال پہنچے تھے، جہاں ڈاکٹروں کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کی گئی تھی۔