لکھنؤ: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے منگل کو ریاستی حکومت، لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، اتر پردیش ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ، لکھنؤ میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کو 4 ہفتوں کے اندر حلف نامے داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان حلف ناموں میں شہروں، قصبوں اور رہائشی کالونیوں کے لے آؤٹ پلان میں ضروری شہری سہولتوں کی فراہمی سے متعلق تفصیلات پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ عدالت نے آنے والے برسوں میں شہریوں کی ضروریات کا اندازہ لگاتے ہوئے مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک جامع خاکہ تیار کرنے کے سلسلے میں بھی تجاویز طلب کی ہیں۔
جسٹس راجن رائے اور جسٹس منجیو شکلا کی بنچ نے ’لے آؤٹ پلان، شہری منصوبہ بندی اور ضروری سہولتوں کی فراہمی‘ سے متعلق ازخود نوٹس لے کر دائر کی گئی مفاد عامہ کی عرضی کا دائرہ بڑھاتے ہوئے یہ حکم دیا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 7 دسمبر کو ہوگی۔ بنچ نے خاص طور پر متعلقہ اداروں سے پوچھا ہے کہ کیا لے آؤٹ پلان تیار کرتے وقت بدلتی ہوئی ضروریات اور گزشتہ تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے پولیس اسٹیشن، پولیس چوکی، پولیس بوتھ، ٹریفک بوتھ، فائر اسٹیشن اور اسپتالوں کے لیے جگہ مختص کرنے کا انتظام کیا جاتا ہے؟ عدالت نے کہا کہ اگر ایسے انتظامات نہیں ہیں تو متعلقہ ادارے ان سہولتوں کی فراہمی کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں۔
عدالت نے لے آؤٹ پلان تیار کرتے وقت بجلی کے محکموں، میونسپل اداروں اور دوسری ایجنسیوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، خاص طور پر ٹرانسفارمر لگانے کے لیے جگہ طے کرنے کے معاملے میں۔ متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ بتائیں کہ منصوبہ بندی کے دوران کن محکموں، اداروں اور سرکاری کمپنیوں سے مشورہ کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں نافذ قواعد و ضوابط اور رہنما ہدایات بھی عدالت میں پیش کریں۔ لکھنؤ میونسپل کارپوریشن کو الگ سے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس میں ان سہولتوں کے بارے میں تجاویز پیش کی جائیں جنہیں لے آؤٹ پلان میں شامل کیا جانا چاہیے۔
یہ مفاد عامہ کی عرضی شہری منصوبہ بندی کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے دائر کی گئی تھی۔ خاص طور پر اس میں کچرا جمع کرنے اور ٹرانسفارمر لگانے کے لیے جگہ مختص نہ کرنے کا مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ اس سے پہلے سماعت کے دوران میونسپل کارپوریشن نے عدالت کو بتایا تھا کہ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز اکثر کچرا جمع کرنے کے لیے جگہ طے کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں کالونیاں آباد ہونے کے بعد مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح ٹرانسفارمر لگانے کے لیے جگہ مقرر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سڑکوں کے کنارے نصب کرنا پڑتا ہے، جس سے ٹریفک متاثر ہوتا ہے اور مقامی لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان خدشات پر غور کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے تیار کی جانے والی رہائشی کالونیوں میں صحت مند، صاف ستھرا اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے ضروری شہری سہولتوں کا ہونا لازمی ہے۔ حالیہ سماعت کے دوران ایل ڈی اے اور ہاؤسنگ بورڈ کے وکیل نے بتایا تھا کہ 2025 میں نافذ کیے گئے عمارتوں کی تعمیر سے متعلق ضابطوں میں کچرے کو ٹھکانے لگانے، ٹرانسفارمر نصب کرنے اور دیگر عوامی سہولتوں کے انتظامات شامل ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بارے میں لاعلمی ظاہر کی کہ آیا ٹرانسفارمر لگانے کے لیے کوئی خاص انتظام بھی موجود ہے یا نہیں۔ بنچ نے افسران کو حلف ناموں کے ذریعے صورت حال واضح کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کے لیے ایک جامع خاکہ تیار کیا جانا چاہیے، جس میں نئی کالونیوں اور قصبوں میں رہنے والے لوگوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھا جائے۔