الہ آباد ہائی کورٹ نے مبینہ غیر قانونی مذہبی تبدیلی کے نیٹ ورک سے متعلق مقدمے میں مولانا کلیم صدیقی اور محمد عمر گوتم سمیت آٹھ سزا یافتہ افراد کی سزا کے بعد ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی ہیں، جبکہ اسی مقدمے میں سزا پانے والے آٹھ دیگر افراد کو ان کی اپیلوں کی سماعت مکمل ہونے تک ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس راجیش سنگھ چوہان اور جسٹس رام منوہر نارائن مشرا پر مشتمل ڈویژن بنچ نے بدھ کے روز 16 فوجداری اپیلوں میں دائر ضمانت کی درخواستوں پر یہ فیصلہ سنایا۔ یہ اپیلیں ستمبر 2024 میں لکھنؤ کی خصوصی عدالت (این آئی اے) کی جانب سے سنائے گئے مشترکہ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔
مولانا کلیم صدیقی اور عمر گوتم سمیت آٹھ افراد کو ضمانت نہیں
ہائی کورٹ نے مولانا کلیم صدیقی اور محمد عمر گوتم کے علاوہ مفتی قاضی جہانگیر قاسمی، صلاح الدین جین الدین شیخ، پرساد رامیشور کاورے عرف آدم، عرفان شیخ، کوثر عالم اور ڈاکٹر فراز باب اللہ شاہ کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردیں۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اگرچہ ان آٹھ افراد نے مقدمے کی سماعت اور سزا کے بعد مجموعی طور پر چار سال چھ ماہ سے زیادہ عرصہ جیل میں گزارا ہے، تاہم ریکارڈ پر موجود مواد، وکلا کے دلائل اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خلاف عائد الزامات کو انتہائی سنگین نوعیت کا پایا گیا۔ عدالت کے مطابق اپیلوں کی زیرِ سماعت مدت کے دوران انہیں ضمانت پر رہا کرنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے۔
آٹھ دیگر سزا یافتہ افراد کو ضمانت
دوسری جانب ہائی کورٹ نے مقدمے کے دیگر آٹھ سزا یافتہ افراد کی درخواستیں منظور کرلیں۔ ان میں منو یادو، عبداللہ عمر، دھیراج گووند راؤ جگتاپ، بھوپریا بانڈو عرف ارسلان مصطفیٰ، سرفراز علی جعفری، محمد سلیم، کنال اشوک چودھری عرف عاطف اور راہل بھولا شامل ہیں۔عدالت نے ان افراد کے خلاف عائد الزامات، مقدمے میں ان کے مبینہ کردار اور پیش کیے گئے شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ان کے معاملات میں الزامات اور شواہد کی نوعیت نسبتاً کم سنگین دکھائی دیتی ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان میں سے بعض افراد کو تعزیراتِ ہند کی دفعہ 121A کے تحت سزا نہیں سنائی گئی تھی۔
ضمانت کے لیے متعدد شرائط عائد
ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کرتے ہوئے آٹھوں افراد کو ذاتی مچلکہ اور مساوی رقم کے دو ضامن پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے ان پر متعدد شرائط بھی عائد کی ہیں۔
ضمانت پانے والے افراد کو اپنے پاسپورٹ، اگر جاری ہوئے ہوں اور پہلے سے جمع نہ کرائے گئے ہوں، متعلقہ ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے ہوں گے۔ انہیں اپنی اپیلوں کی سماعت میں تعاون کرنا ہوگا اور غیر ضروری وجوہات کی بنیاد پر سماعت ملتوی کرانے کی درخواست نہیں دینی ہوگی۔
عدالت کی اجازت کے بغیر وہ ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے اور ضمانت کی مدت کے دوران کسی اسی نوعیت کی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے۔ ان شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں استغاثہ کو ضمانت منسوخ کرانے کے لیے درخواست دائر کرنے کا اختیار ہوگا۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ضمانت پر رہا ہونے والے آٹھوں افراد کو جیل سے رہائی کے دو ماہ کے اندر ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد مجموعی جرمانے کی 50 فیصد رقم جمع کرانی ہوگی۔ باقی 50 فیصد جرمانے کی وصولی پر فی الحال روک رہے گی۔ مقررہ مدت میں نصف جرمانہ جمع نہ کرانے کی صورت میں ضمانت منسوخ ہوجائے گی اور متعلقہ افراد کو دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا۔
2021 میں لکھنؤ اے ٹی ایس تھانے میں درج ہوا تھا مقدمہ
یہ معاملہ 2021 میں لکھنؤ کے گومتی نگر میں واقع اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ (اے ٹی ایس) پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے سے متعلق ہے۔ اس سے جڑے چار سیشن ٹرائلز کے نتیجے میں مجموعی طور پر 16 افراد نے اپنی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی تھیں۔
مقدمے میں تعزیراتِ ہند کی دفعات 120B، 153A، 153B، 295A، 417، 298، 121A اور 123 کے علاوہ اتر پردیش غیر قانونی مذہبی تبدیلی کی روک تھام ایکٹ 2021 اور فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ 2010 کی متعلقہ دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے تھے۔
لکھنؤ کی خصوصی عدالت (این آئی اے) نے 11 ستمبر 2024 کو مشترکہ فیصلے کے ذریعے ملزمین کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سزائیں سنائی تھیں۔
استغاثہ نے کیا الزامات عائد کیے تھے؟
استغاثہ کا الزام تھا کہ عمر گوتم اور ان کے ساتھی معاشرے کے کمزور طبقات، بچوں، خواتین اور درج فہرست ذاتوں و قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر مذہبی تبدیلی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ استغاثہ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ان سرگرمیوں کا مقصد ملک کی آبادیاتی ساخت میں تبدیلی لانا اور معاشرتی امن و امان کو متاثر کرنا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے عمر گوتم کو مبینہ نیٹ ورک کا مرکزی کردار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دہلی میں اسلامک دعوہ سینٹر (آئی ڈی سی) چلاتے تھے اور مبینہ طور پر ملکی و غیر ملکی مالی وسائل کے ذریعے مذہبی تبدیلی کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرتے تھے۔ عدالت کے مطابق عمر گوتم نے ایک ہزار سے زیادہ افراد کی تبدیلیٔ مذہب سے متعلق دستاویزات تیار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
مولانا کلیم صدیقی کے بارے میں ٹرائل کورٹ نے کہا تھا کہ وہ جمعیت امام ولی اللہ ٹرسٹ اور گلوبل پیس سینٹر کے ذریعے سرگرم تھے۔ عدالت کے مطابق ان اداروں کے تحت مدارس چلائے جاتے تھے اور مذہبی مبلغین، جنہیں داعی کہا جاتا ہے، کو مذہبی تبدیلی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں 2006 سے 2021 کے درمیان ٹرسٹ کو موصول ہونے والی دو کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد کی رقم کا بھی حوالہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ مولانا کلیم صدیقی سے منسوب بعض تقاریر اور آڈیو ریکارڈنگز کو بھی اپنے فیصلے میں زیرِ بحث لایا تھا۔
دیگر ملزمین کے مبینہ کردار
ٹرائل کورٹ نے دیگر ملزمین کے کردار کے بارے میں بھی الگ الگ الزامات کا ذکر کیا تھا۔ مفتی قاضی جہانگیر قاسمی پر آئی ڈی سی کے ذریعے مذہب کی تبدیلی اور شادی سے متعلق سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا الزام تھا۔
صلاح الدین جین الدین شیخ کے بارے میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے 2018 سے 2021 کے درمیان حوالہ نیٹ ورک کے ذریعے عمر گوتم کو تقریباً 62 کروڑ روپے منتقل کیے۔ عرفان شیخ پر نوئیڈا ڈیف سوسائٹی میں سماعت اور گویائی سے محروم طلبہ کی مبینہ مذہبی تبدیلی میں اشاروں کی زبان کے ذریعے مدد کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
پرساد رامیشور کاورے عرف آدم پر اپنی والدہ اور بہن سمیت دیگر افراد کی مذہبی تبدیلی میں سہولت فراہم کرنے اور دعوتی سرگرمیوں کی حمایت کرنے کا الزام تھا۔ کوثر عالم پر بھی مذہبی تبدیلی میں مدد کا الزام لگایا گیا تھا، جبکہ ڈاکٹر فراز باب اللہ شاہ کے بارے میں استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے ڈاکٹر کی حیثیت سے غیر مسلم مریضوں کو متاثر کرکے مذہبی تبدیلی کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کی۔
یہ تمام تفصیلات ٹرائل کورٹ کے فیصلے اور استغاثہ کے الزامات سے متعلق ہیں۔ ہائی کورٹ کا موجودہ حکم ضمانت کی درخواستوں پر ہے، مقدمے کی اپیلوں کے حتمی فیصلے پر نہیں۔
جنوری 2027 کے پہلے ہفتے میں اپیلوں کی سماعت
ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنانے کے بعد ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ طلب کیا جائے، اگر پہلے سے موصول نہ ہوا ہو، اور مقدمے کی سماعت کے لیے پیپر بک تیار کی جائے۔
عدالت نے تمام 16 فوجداری اپیلوں کو جنوری 2027 کے پہلے ہفتے میں سماعت کے لیے فہرست بند کرنے کی ہدایت دی ہے۔