جے پور: مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے ہفتہ کے روز کہا کہ ملک میں کانگریس کے دورِ حکومت میں بھی 10 مرتبہ یہ عمل انجام دیا جاچکا ہے۔ انہوں نے اقتدار کی تبدیلی کی بات کرنے پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک میں اقتدار کی تبدیلی کا واحد آئینی اور جمہوری راستہ انتخابات ہیں۔
یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوشی نے کہا، ’’ملک میں اب تک 12 مرتبہ ایس آئی آر ہوچکا ہے۔ ان میں سے 10 مرتبہ یہ عمل کانگریس کے دورِ حکومت میں انجام دیا گیا۔ پہلے کانگریس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا، لیکن آج سیاسی مایوسی کے باعث راہل گاندھی اور ان کی پارٹی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘‘
مرکزی وزیر نے کہا کہ ایس آئی آر کا مقصد ووٹر فہرستوں کو صاف، شفاف اور غلطیوں سے پاک بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی اہل ہندوستانی شہری کا نام ووٹر فہرست سے چھوٹ گیا ہے تو وہ فارم 6 بھر کر اپنا نام دوبارہ درج کراسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کا یہ مطالبہ کہ ووٹر فہرستوں کو ایس آئی آر سے پہلے کی حالت میں برقرار رکھا جائے، ’’بے وقوفی کی انتہا‘‘ ہے۔
جوشی نے کہا، ’’ہندوستانی ووٹر کانگریس کو مسترد کرچکے ہیں، اسی لیے وہ چاہتی ہے کہ پہلے ووٹر فہرستوں میں دراندازوں کے نام شامل کرائے جائیں اور انہیں تمام سہولتیں فراہم کرنے کے بہانے اقتدار میں واپس آجائے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی اور کچھ دوسرے لوگ کھلے عام اقتدار کی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔
جوشی نے کہا، ’’ہندوستان میں اقتدار کی تبدیلی کا واحد آئینی اور جمہوری راستہ انتخابات ہیں۔ ہندوستانی جمہوریت ہمارے ڈی این اے، ہماری روایات اور تہذیبی اقدار میں رچی بسی ہے۔ ملک کے عوام اپنے حقِ رائے دہی کے ذریعے حکومت منتخب کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘