بریلی میں طالبات کی شخصیت سازی اور ہنر مندی کے لیے ’نکھار‘ پروگرام کا انعقاد

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-10-2026
بریلی میں طالبات کی شخصیت سازی اور ہنر مندی کے لیے ’نکھار‘ پروگرام کا انعقاد
بریلی میں طالبات کی شخصیت سازی اور ہنر مندی کے لیے ’نکھار‘ پروگرام کا انعقاد

 



بریلی، نئی دہلی کی خواتین کو بااختیار بنانے کے شعبے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’آوازِ خواتین‘ نے بدھ کے روز بریلی کے اسلامیہ گرلز انٹر کالج میں خواتین کی شخصیت سازی اور ہنر کو فروغ دینے کے لیے اپنے خصوصی پروگرام ’نکھار‘ (NIKHAR) کا انعقاد کیا۔ نکھار انگریزی کے الفاظ Nurture, Inspire, Know, Hone, Aspire, Achieve اور Rise کا مخفف ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کے ایک اہم پہلو پر توجہ مرکوز کی گئی، یعنی اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے کا اعتماد، قائم شدہ تصورات پر سوال اٹھانے کی ہمت اور زندگی بھر سیکھتے رہنے کا جذبہ۔

’ایڈووژن‘ کی ڈائریکٹر عظمٰی قمر کی قیادت میں منعقدہ اس نشست میں شخصیت سازی، خود آگاہی اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں خواتین کو بااختیار بنانے والی صلاحیتوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اسکول کی پرنسپل چمن جہاں بھی خصوصی طور پر موجود تھیں۔ انہوں نے خواتین کی ہمہ جہت ترقی اور تعلیم کو مرکزی اہمیت دینے والی اس پہل کی مکمل حمایت کی۔ شخصی ترقی اور ہنر مندی کے فروغ کے لیے تیار کیے گئے پروگرام ’نکھار‘ کا بنیادی مقصد خواتین میں خود اعتمادی پیدا کرنا، ان کی ابلاغی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، قیادت کی صلاحیتوں کو فروغ دینا اور ان کی پوشیدہ صلاحیتوں اور خوبیوں کو پہچاننے میں مدد کرنا ہے۔

awaz

اس پروگرام کی بنیاد اس سادہ لیکن اہم یقین پر ہے کہ ترقی صرف نئے ہنر سیکھنے تک محدود نہیں، بلکہ ان خوف، پرانے تصورات اور ذہنی پابندیوں کو چھوڑنا بھی ضروری ہے جو اکثر لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکتی ہیں۔ اس پروگرام کے پس منظر میں کارفرما سوچ کی وضاحت کرتے ہوئے ’آوازِ خواتین‘ کی رابطہ کار شارقہ ملک نے کہا، ’’تبدیلی ہی وہ واحد حقیقت ہے جو ہمیشہ برقرار رہتی ہے، لیکن تبدیلی کو قبول کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ہم جیسا بننا چاہتے ہیں، ویسا بننے کی سمت میں پہلا قدم ان باتوں کو بھولنا یا چھوڑنا ہوتا ہے جو ہمیں بچپن سے سکھائی جاتی رہی ہیں۔ ہمیں پرانے تصورات پر سوال اٹھانے، ان باتوں کو چھوڑنے جو ہمیں پیچھے کھینچتی ہیں، اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے اپنے اندر گنجائش پیدا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ترقی اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم خود کو دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں اور اس طرح اپنے اندر چھپی نئی صلاحیتوں کو دریافت کرتے ہیں۔ ’نکھار‘ کے ذریعے ہماری کوشش ہے کہ خواتین کے لیے ایک ایسی جگہ بنائی جائے جہاں وہ سیکھ سکیں، سوال پوچھ سکیں، اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں اور پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔‘‘ یہ پہل خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے ’آوازِ خواتین‘ کے اس نظریے کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ محض مواقع تک رسائی فراہم کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ تنظیم ایسے ماحول کی تشکیل پر زور دیتی ہے جہاں خواتین اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں، اپنی آواز بلند کرسکیں اور اپنی زندگی سے متعلق فیصلے خود کرنے کے لیے بااختیار محسوس کریں۔

awaz

اس عمل میں تعلیمی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے، کیونکہ وہ نوجوان خواتین کو اپنی طاقت پہچاننے، اپنے نقطۂ نظر کو وسیع کرنے اور مستقبل کے چیلنجوں کے لیے خود کو تیار کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اسلامیہ گرلز انٹر کالج میں ’نکھار‘ پروگرام منعقد کرنے کا مقصد ان اہم موضوعات پر گفتگو کو ایسے تعلیمی اداروں تک پہنچانا ہے جہاں تعلیم صرف پیشہ ورانہ اہداف اور مستقبل کے روزگار کی راہیں متعین نہ کرے، بلکہ ذاتی خود اعتمادی اور خود انحصاری کو بھی فروغ دے۔

awaz

’آوازِ خواتین‘ کے لیے ’نکھار‘ تعلیم، بیداری اور ہنر کی تعمیر کے ذریعے خواتین کی ترقی کو زیادہ آسان اور بامعنی بنانے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔ یہ پروگرام شرکا کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ زیادہ خود اعتماد بننے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سوال کا جواب معلوم ہو، بلکہ اس کی ابتدا سوال پوچھنے کی خواہش، سیکھنے کے جذبے کو اپنانے اور خود کو تبدیل کرنے کی آزادی دینے سے ہوتی ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی سب سے بامعنی تبدیلی کچھ نیا سیکھنے سے نہیں، بلکہ اسے سیکھنے کے لیے اپنے اندر جگہ پیدا کرنے سے شروع ہوتی ہے۔