کولکاتا: مغربی بنگال میں درگا پوجا کے تہوار کو کمپنیاں صارفین اور مقامی برادریوں سے رابطہ مضبوط بنانے کے ایک اہم موقع کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ اس دوران برانڈ کی تشہیر کے ساتھ تاریخی ورثے کا تحفظ، دست کاروں کی مدد، ثقافتی روایات کو اجاگر کرنے اور عوامی خدمات کی فراہمی جیسے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ روایتی بنگالی کھلونوں کو جدید ٹیکنالوجی سے نئی شکل دینے سے لے کر آبائی تاریخی گھروں کی مرمت تک، دست کاروں کی ورکشاپوں کو بہتر بنانے سے لے کر درگا پوجا کے پنڈالوں میں گھومنے والے لوگوں کے لیے آرام گاہیں قائم کرنے تک، اس تہوار کے موسم میں کمپنیوں نے مختلف نوعیت کے اقدامات کیے ہیں۔
ان کوششوں کا مقصد اپنے برانڈ کو بنگال کی ثقافتی شناخت سے جوڑنا ہے۔ اشتہاری کمپنی پاینیر پبلسٹی کارپوریشن کے ایگزیکٹیو نائب صدر امیت مترا نے کہا کہ درگا پوجا کمپنیوں کو یہ منفرد موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے برانڈ کی تشہیر کے ساتھ بنگال کے ثقافتی ورثے میں بامعنی تعاون بھی کریں۔ ان کے مطابق، اس تہوار کی لوگوں کی زندگیوں میں گہری اہمیت ہے، اس لیے کمپنیاں اس کے ذریعے صارفین کے ساتھ جذباتی تعلق قائم کر سکتی ہیں۔ امیت مترا نے کہا کہ سب سے کامیاب کوششیں وہ ہوتی ہیں جن میں کاروباری مقاصد اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کو ساتھ لے کر چلا جاتا ہے۔
اس سے کمپنیوں کو صارفین کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے کے ساتھ تہوار کی روح اور اس کی پائیداری میں تعاون کرنے کا موقع ملتا ہے۔ ایوریڈی انڈسٹریز انڈیا لمیٹڈ نے روایتی بنگالی کھلونوں کے محدود تعداد میں ایسے نمونے متعارف کرائے ہیں جنہیں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔ ان میں ٹیراکوٹا یعنی پکی مٹی کے گھوڑے، بنگال کے الو اور راجا رانی کی گڑیاں شامل ہیں۔ اس منصوبے میں 18 دست کاروں نے حصہ لیا ہے۔ کمپنی نے ان روایتی مٹی اور لکڑی کے کھلونوں میں اپنی بیٹریوں کو شامل کیا ہے۔ اس کا مقصد نئی نسل کو مقامی دست کاری سے متعارف کرانا اور ان کھلونوں کو بنانے والے دست کاروں کی مدد کرنا ہے۔
جے ایس ڈبلیو ڈولوکس نے اپنے ’لیٹس کلر‘ منصوبے کے تیسرے مرحلے کے تحت کولکاتا کے تقریباً 250 سال قدیم کنڈو باڑی کی مرمت اور تزئین نو میں تعاون کیا ہے۔ یہ ایک تاریخی آبائی گھر ہے، جہاں خاندان کی کئی نسلیں درگا پوجا مناتی آ رہی ہیں۔ اس کام میں گھر کی دیواروں، صحن اور روایتی ’ٹھاکر دالان‘ کی مرمت شامل ہے، جہاں درگا کی مورتیاں نصب کی جاتی ہیں۔ تزئین نو کے دوران عمارت کے مختلف حصوں میں روایتی ’الپنا‘ نقش و نگار بھی بنائے گئے ہیں۔ پولی کیب انڈیا لمیٹڈ نے تہوار کی تیاریوں میں اہم کردار ادا کرنے والے دست کاروں کی مدد پر توجہ دی ہے۔
ریڈیو جاکی پروین کے تعاون سے کمپنی نے آنجہانی مورتی ساز ببلو پال کی ورکشاپ میں بجلی کے نظام کو بہتر بنایا۔ اس اقدام کا مقصد ان کی اہلیہ پولی پال کو خاندان کی فنکارانہ روایت برقرار رکھنے میں مدد دینا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نئی وائرنگ، بجلی کے حفاظتی آلات، روشنیوں، پنکھوں اور سوئچوں کا انتظام کیا گیا۔ کھانے پینے کی مصنوعات تیار کرنے والے برانڈ فارچون نے تاریخی ورثے کو مرکز میں رکھتے ہوئے کولکاتا کے دیش پریہ پارک میں راج باڑی یعنی بنگال کے روایتی امیر گھرانوں کی حویلیوں سے متاثر ایک تنصیب تیار کی ہے۔ اس میں تین ہزار سے زیادہ جار اور مصنوعات کے پیک استعمال کیے گئے ہیں۔
اس تنصیب کے ذریعے بنگال کی قدیم اشرافیہ کی رہائش گاہوں کے طرز تعمیر کو دوبارہ پیش کیا گیا ہے۔ بادامتلا آشار سنگھا میں بھی فارچون نے ایک سرنگ نما دیواری آرٹ تیار کیا ہے، جس میں چاول، دال، چپٹے چاول اور سویا کے ٹکڑوں جیسی روزمرہ غذائی اشیا استعمال کی گئی ہیں۔ اس کے ذریعے درگا پوجا کی معروف روایات کو دکھایا گیا ہے، جن میں مہالیہ سننا، کولا بو اسنان، اشٹمی انجلی، بھوگ اور سندور کھیلا شامل ہیں۔ کمپنی کی مہم ’فارچون سبور پوجو‘ کے تحت معاشرے کے محروم طبقوں کے لیے بھی مختلف سرگرمیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔
اس سال کمپنیوں کی سماجی سرگرمیوں میں صحت کی خدمات کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ اسٹار ہیلتھ اینڈ الائیڈ انشورنس نے کولکاتا کے دو درگا پوجا پنڈالوں اور درگاپور میں ایک پنڈال پر مجموعی طور پر تین ’بشرام گرہ‘ یعنی آرام گاہیں قائم کی ہیں۔ یہاں آنے والوں کے لیے بیٹھنے کی جگہ اور مشروبات فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹیکنالوجی کی مدد سے چہرے کا اسکین کرنے کی سہولت بھی موجود ہے، جس کے ذریعے صحت کے بعض پیمانوں کے بارے میں ابتدائی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ یہ سہولتیں 16 سے 20 اکتوبر تک دستیاب ہیں۔ منی پال ہاسپٹلس نے بھی درگا پوجا کے دوران سماجی خدمات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
اس کے تحت بزرگ شہریوں کے لیے دل کا دورہ پڑنے اور فالج سے متعلق بیداری نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں۔ ادارے کی ’ون اسکین کین سیو اے لائف‘ مہم کے تحت کیو آر کوڈز کی مدد سے لوگوں کو ہنگامی حالات میں ایمبولینس کی خدمات حاصل کرنے میں مدد دی جائے گی۔ ان مختلف اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنیاں بنگال کے سب سے بڑے تہوار کو محض تشہیر کا ذریعہ نہیں بنا رہیں، بلکہ اس کے ثقافتی اثرات اور وسیع عوامی رسائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روایتی دست کاری، سماجی شرکت اور تہوار کے پیچھے کام کرنے والے لوگوں کو بھی نمایاں کر رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے کاروباری ادارے اپنی مصنوعات اور خدمات کو فروغ دینے کے ساتھ بنگال کی ثقافتی شناخت اور اجتماعی روایات سے اپنا تعلق مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔