نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ہفتہ کے روز معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر این آر مادھو مینن کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ان کی یاد میں شروع کیے گئے دوسرے ’ٹریبیوٹ آف آنر‘ یادگاری ایوارڈ سے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمنی کو نوازا گیا۔
یہ ایوارڈ تقریب کوچی کے ایک ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس میں کیرالہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سومین سین نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ملک میں قانونی تعلیم کے فروغ اور اداروں کی تعمیر میں مادھو مینن کی خدمات کو یاد کیا۔
انہوں نے کہا کہ مادھو مینن کے نظریے اور کوششوں نے وکیلوں، ججوں اور قانون کے ماہرین کی کئی نسلوں کی تربیت اور فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چیف جسٹس نے بتایا کہ مادھو مینن نے 1986 میں بنگلورو میں نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (این ایل ایس آئی یو) قائم کی تھی اور پانچ سالہ مربوط ایل ایل بی کورس شروع کیا تھا۔ اس اقدام نے ملک میں قانونی تعلیم کے پورے نظام کو ایک نئی سمت دی۔ بعد میں انہوں نے کولکاتا میں ویسٹ بنگال نیشنل یونیورسٹی آف جیورڈیکل سائنسز اور بھوپال میں نیشنل جوڈیشل اکیڈمی بھی قائم کی۔