نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو اداکار راج پال یادو کو ایک نجی کمپنی کی بقایا رقم ادا کرنے کے لیے ٹھوس تجویز پیش کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے عدالت کی رجسٹری میں 2 کروڑ روپے جمع کرانے کی ہدایت دی۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ 2010 میں ایک فلم کے لیے دی گئی 5 کروڑ روپے کی مالی مدد کے تصفیے کے طور پر یادو نے 2013 میں 1.05 کروڑ روپے کے سات چیک دیے تھے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ تمام چیک باؤنس ہو گئے۔ شکایت کنندہ کے مطابق، 2012 میں دونوں فریقوں کے درمیان ہوئے ایک معاہدے کے تحت یادو، ان کی اہلیہ اور ان کی کمپنی نے سود سمیت تقریباً 11 کروڑ روپے ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے راج پال یادو کو خودسپردگی سے حاصل چھوٹ کی مدت 5 اکتوبر تک بڑھا دی۔
دہلی ہائی کورٹ نے 10 جولائی کو چیک باؤنس کے متعدد معاملات میں یادو کی سزا برقرار رکھتے ہوئے انہیں تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ بنچ نے کہا، ’’وہ ڈرامہ کرنے میں ماہر ہیں، لیکن یہ عدالت ہے۔ عدالت کے پہلے کے احکامات پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ عدالت نے مزید کہا کہ یادو کا رویہ اعتماد پیدا نہیں کرتا، اس کے باوجود انہیں آخری موقع دیا جا رہا ہے۔ یادو کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پی ایس پٹوالیا نے بقایا رقم ادا کرنے کے لیے ٹھوس تجویز پیش کرنے کی خاطر دو ہفتے کی مہلت مانگی اور کہا کہ اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے وہ 2 کروڑ روپے جمع کرائیں گے۔
پٹوالیا نے کہا کہ یادو ساڑھے چار ماہ جیل میں گزار چکے ہیں اور فلمی صنعت میں ان کے دوستوں کو انہیں اس مشکل سے نکالنا ہوگا۔ شکایت کنندہ میسرز مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل اجیت سنہا نے کہا کہ انہیں رقم کی فکر ہے، کیونکہ یادو اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے ہیں۔ بنچ نے اس معاملے کی اگلی سماعت 5 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔
سپریم کورٹ نے 8 ستمبر کو یادو کی عرضی پر نوٹس جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ عدالت کی رجسٹری میں 5 کروڑ روپے جمع کرانے پر انہیں خودسپردگی سے چھوٹ دی جائے گی۔ ہائی کورٹ نے 10 جولائی کو سزا کے خلاف عرضی دائر کرنے میں ہوئی 1,894 دن یعنی پانچ سال سے زیادہ کی ’’غیر معمولی‘‘ تاخیر کو معاف کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے یادو کو ساتوں شکایات میں سے ہر ایک میں شکایت کنندہ کو ایک کروڑ روپے سے زیادہ ادا کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔ تاہم، عدالت نے واضح کیا تھا کہ اداکار کی جانب سے پہلے ہی ادا کیے گئے تقریباً 2 کروڑ روپے کو رقم میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یادو کو فیصلے کے خلاف اپیل کا موقع دینے کے لیے سزا پر دو ماہ تک روک لگا دی گئی تھی۔