نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ خطرناک صنعتوں میں بچوں سے کام لینے پر پابندی سے متعلق بچوں سے مزدوری (ممانعت و ضابطہ بندی) ترمیمی قانون 2016 کے نفاذ کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی سیل قائم کرے۔ جسٹس ایس وی این بھٹی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے وزارت برائے خواتین و بہبود اطفال کو حکم دیا کہ وہ ریاستوں کے متعلقہ چیف سکریٹریوں کے ذریعے نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کو اس سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کرے۔
بنچ نے کہا کہ بچوں اور نوعمروں کے حقوق کے تحفظ کے مقصد سے وزارت ایک خصوصی سیل قائم کرے، قانون کی دفعات پر عمل درآمد کی نگرانی جاری رکھے اور 2016 کے ترمیمی قانون کے مطابق ریاستوں کے متعلقہ چیف سکریٹریوں کے توسط سے نفاذ کرنے والی ایجنسیوں کو ہدایات دے۔ اس معاملے میں درخواست گزار غیر سرکاری تنظیم ’ہیلتھ فار ملیئنز‘ کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن اور پرنَو سچدیوا عدالت میں پیش ہوئے۔ بچوں سے مزدوری (ممانعت و ضابطہ بندی) ترمیمی قانون 2016، اصل بچوں سے مزدوری کے قانون 1986 میں ترمیم کے بعد بنایا گیا تھا اور یہ یکم ستمبر 2016 سے نافذ ہوا۔
اس قانون کے تحت بچوں کو ملازمت پر رکھنے پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے اور 14 سال سے کم عمر بچوں سے ہر طرح کے کاروبار اور کام کے عمل میں مزدوری کرانے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہ عرضی 2009 میں دائر کی گئی تھی، جس میں بچوں سے مزدوری (ممانعت و ضابطہ بندی) قانون 1986 کی دفعہ 3 کی ایک شق کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس شق کے تحت خاندانی کام کے نام پر ورکشاپس میں بیڑی بنانے جیسے خطرناک کاموں اور حکومت سے امداد یا مالی تعاون حاصل کرنے والے اسکولوں میں بچوں سے کام لینے کی اجازت دی گئی تھی۔
عرضی میں مرکز سے یہ ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی تھی کہ ایسے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے اور دن میں 2 مرتبہ کھانا، یعنی دوپہر کے کھانے کی اسکیم کا فائدہ دیا جائے۔ سماعت کے دوران مرکز کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے بنچ کو بتایا کہ اصل قانون میں ترمیم کے بعد درخواست گزار کی شکایت بڑی حد تک دور ہو چکی ہے، اس لیے اب اس عرضی پر مزید غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے قانون پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کی ہدایت دی۔