نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جشن کے دوران فائرنگ سے ایک خاتون کی ہلاکت کے معاملے میں بہار کے سابق رکن اسمبلی راجو کمار سنگھ کی سزا پر روک لگانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جسٹس منوج جین نے منگل کو ان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سزا پر حکم امتناع دینے سے انکار کیا۔ تاہم عدالت پہلے ہی ان کی چار سالہ قید کی سزا معطل کر چکی ہے۔راجو کمار سنگھ کو 31 دسمبر 2018 کو نئے سال کی تقریب کے دوران ہوئی فائرنگ میں ارچنا گپتا کی موت کے معاملے میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ مقدمے میں انہیں غیر ارادی طور پر قتل کے مترادف مجرمانہ قتل کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا سنائے جانے کے بعد وہ قانون ساز اسمبلی کی رکنیت سے نااہل ہوگئے تھے۔
راجو کمار سنگھ نے دہلی کی خصوصی عدالت کے 4 جولائی 2026 کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے 27 جولائی کو ان کی سزا معطل کرتے ہوئے 25 ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور اتنی ہی رقم کی ایک مقامی ضمانت پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے انہیں مقتولہ کے اہل خانہ کے لیے 25 لاکھ روپے معاوضے کی رقم بھی عدالت کے رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ہائی کورٹ نے سزا معطل کرنے کے اپنے سابقہ حکم میں کہا تھا کہ اپیل کی جلد حتمی سماعت ہونے کا امکان نہیں ہے۔ عدالت نے ہدایت دی تھی کہ 25 لاکھ روپے رجسٹری میں جمع کرائے جائیں اور مقتولہ کا خاندان اپیل کے حتمی نتیجے سے قطع نظر یہ رقم نکالنے کا مجاز ہوگا۔
دفاع کی جانب سے شواہد پر سوال
راجو کمار سنگھ کی جانب سے سینئر وکیل سدھارتھ لتھڑا کے ساتھ وکلا سمارتھ کرشن لتھڑا اور ادیتی ترپاٹھی عدالت میں پیش ہوئے۔ دفاع نے موقف اختیار کیا کہ مقدمے میں موجود گواہوں کی گواہی قابل اطمینان اور واضح نہیں ہے کیونکہ کسی گواہ نے مبینہ طور پر چلائی گئی گولی کو براہ راست راجو کمار سنگھ سے منسوب نہیں کیا۔دفاع نے یہ بھی دلیل دی کہ استغاثہ کے تسلیم شدہ مقدمے کے مطابق جشن کے دوران ایک فائرنگ سکیورٹی گارڈ کی رائفل سے بھی ہوئی تھی۔ فرانزک رائے بھی حتمی نہیں ہے اور یہ واضح طور پر ثابت نہیں ہوسکا کہ مقتولہ کے جسم سے برآمد ہونے والی گولی کا سیسہ ملزم کی مبینہ پستول سے چلائی گئی گولی کا تھا یا سکیورٹی گارڈ کی رائفل سے چلنے والی گولی کا۔
دفاع کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ راجو کمار سنگھ کے خلاف دیگر مقدمات بھی درج رہے ہیں تاہم 9 مقدمات میں انہیں بری کیا جا چکا ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیل 2026 میں دائر ہوئی ہے اور مستقبل قریب میں اس کی حتمی سماعت کا امکان نہیں۔ دفاع کے مطابق اپیل میں قابل غور قانونی نکات موجود ہیں اور اسی بنیاد پر سزا معطل رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔نئے سال کی تقریب میں فائرنگ سے خاتون کی موت
یہ معاملہ 31 دسمبر 2018 کو نئے سال کی ایک تقریب کے دوران ہوئی فائرنگ سے ڈاکٹر ارچنا گپتا کی موت سے متعلق ہے۔ مقدمے کے مطابق فائرنگ جشن کے دوران کی گئی تھی اور کسی شخص کو نشانہ بنا کر گولی چلانے کا الزام نہیں تھا۔راجو کمار سنگھ کو غیر ارادی طور پر قتل کے مترادف مجرمانہ قتل کے جرم میں قصوروار قرار دیا گیا۔ انہیں اسلحہ قانون کے تحت بھی سزا سنائی گئی۔ خصوصی جج وشال گوگنے نے 4 جولائی کو تعزیرات ہند کی دفعہ 304 حصہ دوم کے تحت انہیں چار سال قید اور اسلحہ قانون کے تحت دو ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے مقتولہ کے شوہر کے حق میں 25 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔
سزا سنائے جانے کے وقت راجو کمار سنگھ قانون ساز اسمبلی کے رکن تھے۔ انہوں نے ٹرائل کورٹ سے اچھے طرز عمل کی بنیاد پر پروبیشن پر رہائی کی درخواست بھی کی تھی۔ ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اس سے پہلے کبھی مجرم قرار نہیں دیے گئے اور چھ مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔دفاع نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ واقعہ ایک حادثہ اور لاپروائی کا نتیجہ تھا۔ فائرنگ کے دوران راجو کمار سنگھ کے اہل خانہ بھی رقص کے مقام پر موجود تھے۔ دفاع کے مطابق دو گولیاں ہوا میں چلائی گئی تھیں اور کسی شخص کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ملزم نے کسی گواہ پر اثر انداز ہونے یا اسے دھمکانے کی کوشش نہیں کی۔
دوسری جانب استغاثہ نے سزا میں نرمی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقتولہ 45 سال کی تھیں اور ان کی زندگی ابھی باقی تھی۔ واقعہ ان کی 12 سالہ بیٹی اور شوہر کے سامنے پیش آیا اور بیٹی نے اپنی ماں کے سر سے خون بہتے دیکھا۔ استغاثہ کے مطابق فائرنگ رقص کے مقام کے قریب کی گئی اور ایسی فائرنگ سے پہلے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم تھا۔
استغاثہ نے عدالت میں یہ بھی کہا تھا کہ جشن کے دوران فائرنگ ملک میں ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اس معاملے میں راجو کمار سنگھ بہار میں نہیں بلکہ دہلی میں تھے اور انہیں کسی خطرے کا سامنا نہیں تھا اس کے باوجود ان کے پاس ہتھیار موجود تھے۔