ایگزم بینک کے 1 کروڑ ڈالر کے مبینہ گھوٹالے میں سی بی آئی کا مقدمہ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 04-11-2026
ایگزم بینک کے 1 کروڑ ڈالر کے مبینہ گھوٹالے میں سی بی آئی کا مقدمہ
ایگزم بینک کے 1 کروڑ ڈالر کے مبینہ گھوٹالے میں سی بی آئی کا مقدمہ

 



نئی دہلی: مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) نے برطانیہ کی ایک کمپنی، اس کے سابق ڈائریکٹروں اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف انڈین ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) کے ساتھ مبینہ طور پر 1 کروڑ ڈالر کی دھوکہ دہی کے معاملے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ حکام نے بدھ کے روز یہ اطلاع دی۔ تحقیقاتی ایجنسی نے انڈیا ایگزم بینک کے اسسٹنٹ جنرل منیجر جی سیلو کمار کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی ہے۔

شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ بینک کے ساتھ دھوکہ دہی کے نتیجے میں 29 ستمبر 2014 تک اسے 1 کروڑ ڈالر، یعنی تقریباً 63 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اسی مدت میں قرض کے اس کھاتے کو نان پرفارمنگ ایسیٹ (این پی اے) قرار دے دیا گیا تھا۔

ایف آئی آر میں برطانیہ کی کمپنی ’ہینجر بایوٹیک (ایریتھ) لمیٹڈ‘، جو اب بند ہو چکی ہے، اس کے سابق ڈائریکٹروں اور ضامنوں، ’نوی انفراسٹرکچر انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ (این آئی ای پی ایل)، ’ہوم سنتھیسس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ اور نامعلوم سرکاری ملازمین کو ملزم بنایا گیا ہے۔ الزام ہے کہ ’ہینجر بایوٹیک‘ نے برطانیہ میں اپنے ری سائیکلنگ منصوبے کے لیے مشینری کی فراہمی کی غرض سے نوی انفراسٹرکچر کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق، اس منصوبے کے لیے قرض لینے والی کمپنی نے بینک سے مالی مدد طلب کی تھی۔

کمپنی کی جانب سے پیش کیے گئے منصوبے کی مجموعی لاگت 1.59 کروڑ ڈالر بتائی گئی تھی۔ اس میں سے 59 لاکھ ڈالر کمپنی کے بانیوں کی جانب سے لگائے جانے تھے، جب کہ باقی رقم ایگزم بینک سے قرض کے طور پر حاصل کرنے کی تجویز تھی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ممبئی میں بینک کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے 2012 میں 1 کروڑ ڈالر کے مدتی قرض کی منظوری دی تھی۔

الزام ہے کہ مشینری کی سپلائی کبھی کی ہی نہیں گئی اور اس کی خریداری کے لیے دی گئی پیشگی رقم کو ’ہوم سنتھیسس‘ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو قرض دے کر دوسری جگہ استعمال کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، قرض کی پوری 1 کروڑ ڈالر کی رقم کا مبینہ طور پر غبن کر لیا گیا۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی ہدایات کے تحت 2014 میں اس قرض کھاتے کو این پی اے قرار دیا گیا تھا اور بعد میں اسے دھوکہ دہی کے زمرے میں شامل کر دیا گیا۔