واضح رہے کہ مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے پیر کو دیا مرزا کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے آلودگی سے پاک دیوالی منانے کی مہم میں حصہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی شخص کو مذہبی روایات کو نشانہ بنانے والے تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اٹھاولے نے کہا کہ ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کو اپنے تہوار منانے کی آزادی دیتا ہے۔ انہوں نے عوامی شخصیات سے اپیل کی کہ وہ مذہبی اور ثقافتی معاملات کو سیاسی تنازعات کا حصہ نہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئین نے ہر مذہب کو اپنے تہوار منانے کا حق دیا ہے۔ دیوالی کے موقع پر پٹاخے جلانے کی روایت ہے۔ اسی طرح عید اور رمضان کے موقع پر بھی مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔اٹھاولے نے مزید کہا کہ دیا مرزا کی سوشل میڈیا پوسٹ مناسب نہیں تھی۔ انہیں سیاست میں شامل ہونے کے بجائے اپنی اداکاری پر توجہ دینی چاہیے تھی اور کسی مذہب کے خلاف اس طرح کی پوسٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بی ایم سی نے ممبئی میں فضائی آلودگی کے خدشات کے پیش نظر ماحول دوست اور آلودگی سے پاک دیوالی منانے کے لیے عوامی بیداری مہم شروع کی۔ یہ مہم بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے شہر میں فضائی آلودگی کے معاملے پر دی گئی ہدایت کے بعد شروع کی گئی تھی۔اس مہم میں دیا مرزا کے علاوہ مادھوری دکشت نشی گندھا واڈ اور کرکٹر اجنکیا رہانے سمیت کئی معروف شخصیات نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے لوگوں سے اپیل کی تھی۔
تاہم بعض سینئر سیاسی رہنماؤں اور سوشل میڈیا صارفین کے اعتراضات کے بعد بی ایم سی نے دیا مرزا کی ویڈیو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹا دی تھی جبکہ دیگر مشہور شخصیات کے پیغامات برقرار رکھے گئے تھے۔ممبئی بی جے پی کے صدر امیت ساتم نے بھی مہم میں دیا مرزا کو شامل کرنے پر اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا تھا کہ ہمیں دیا مرزا سے دیوالی منانے کا طریقہ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری روایات ہماری ثقافت میں گہری جڑیں رکھتی ہیں۔
تنقید کا جواب دیتے ہوئے دیا مرزا نے اے این آئی سے کہا تھا کہ اگر بامبے ہائی کورٹ اور بی ایم سی نے عوامی مفاد میں ان سے کوئی ویڈیو ریکارڈ کرائی ہے تو اس پر اعتراض کیوں ہونا چاہیے۔ فضائی آلودگی ایک تشویش ناک مسئلہ ہے اور آلودگی کم کرنے کی تمام کوششوں کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ عوامی صحت کا معاملہ ہے۔
دوسری جانب ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے دیا مرزا کی حمایت کی اور بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ جان بوجھ کر سماجی کشیدگی پیدا کر رہی ہے اور اس معاملے کو مذہبی رنگ دے رہی ہے۔ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ دیا مرزا نے ممبئی کو آلودگی سے پاک بنانے اور دیوالی کو خوشی محبت اور اپنائیت کے ساتھ منانے کا پیغام دینے کے لیے ویڈیو بنائی تھی۔ کئی دیگر مشہور شخصیات نے بھی اسی طرح کے پیغامات جاری کیے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کا مقصد ہر معاملے کو مذہب سے جوڑنا ہے۔ ہم دیا مرزا کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ بی ایم سی نے انہیں شہر کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ویڈیو بنانے کی درخواست کی تھی اور دیگر کئی فنکاروں نے بھی اس مہم میں حصہ لیا تھا۔عدالت کی تازہ ہدایت کے بعد اب بی ایم سی کو دیا مرزا کی ویڈیو دوبارہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کرنا ہوگی۔