کیرالہ اسمبلی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے گی بی جے پی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 09-10-2026
کیرالہ اسمبلی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے گی بی جے پی
کیرالہ اسمبلی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے گی بی جے پی

 



ترواننت پورم: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ریاستی صدر راجیو چندر شیکھر نے جمعہ کو کہا کہ ان کی پارٹی آئندہ اسمبلی اجلاس میں کیرالہ کی کانگریس کی قیادت والی حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے گی۔ ان کا یہ بیان کانگریس رہنماؤں کی جانب سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر اعتراضات اور انتخابات کی ساکھ پر سوال اٹھائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ کانگریس کی قیادت میں حزب اختلاف کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے دوران بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔

راجیو چندر شیکھر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کی پارٹی 12 اکتوبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں یہ معاملہ اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قانون ساز پارٹی کے رہنما گوپ کمار اسمبلی اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ چندر شیکھر نے سوال کیا، ’’اس اسمبلی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ غیر قانونی اسمبلی ہے یا قانونی؟‘‘

کیرالہ میں رواں سال اپریل میں ایس آئی آر کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں 140 رکنی اسمبلی میں بی جے پی کے تین ارکان منتخب ہوئے تھے۔ بی جے پی رہنما نے کہا، ’’اسمبلی میں سب سے پہلے اسی معاملے پر بحث ہونی چاہیے، کیونکہ اس کا تعلق مجھ سے، وی مرلی دھرن، گوپ کمار اور دیگر 137 ارکان سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم سب غیر قانونی ہیں؟‘‘ چندر شیکھر نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن ایوان میں اس معاملے پر وضاحت پیش کریں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر یہ اسمبلی غیر قانونی ہے تو وزیر اعلیٰ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔‘‘

دوسری جانب، کیرالہ پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر اور وزیرِ بجلی سنی جوزف نے بی جے پی کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی بے بنیاد عذر پیش کر رہی ہے۔ جوزف نے کہا کہ انہوں نے انتخابی عمل کے خلاف پہلے کیرالہ ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں، جن پر عدالتوں نے ہدایات جاری کیں۔ ان کے مطابق، کانگریس رہنماؤں نے اسمبلی انتخابات کے ذمہ دار انتخابی افسر کی جانب سے بلائی گئی مختلف میٹنگوں میں بھی ایس آئی آر کے بارے میں اپنے خدشات بار بار ظاہر کیے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’کے پی سی سی کے صدر کی حیثیت سے میں نے خود کیرالہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کیں، عدالتی ہدایات حاصل کیں اور اس وقت انتخابات کے ذمہ دار انتخابی افسر کی جانب سے بلائی گئی تمام میٹنگوں میں کئی مرتبہ اپنے اعتراضات پیش کیے۔ شکایت کرنے والوں میں ہم شامل تھے۔‘‘

جوزف نے کہا کہ انہوں نے انتخابی عمل سے متعلق خدشات ان میٹنگوں میں اٹھائے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ کیا بی جے پی یا کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی (ایم) نے بھی اس طرح کی شکایات درج کرائی تھیں؟ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا مقصد انتخابی فہرستوں سے نام خارج کرنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہونا چاہیے کہ ہر اہل شہری کو ووٹر فہرست میں شامل کیا جائے۔ جوزف کے بقول، ’’کسی ووٹر کے بارے میں الیکشن کمیشن کا موقف ایسا ہونا چاہیے کہ شہری کو ووٹ دینے کا حق ملے۔ مقصد ووٹ مسترد کرنا نہیں، بلکہ ووٹروں کو شامل کرنا ہونا چاہیے۔‘

‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے عمل پر قومی سطح پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے میڈیا میں آنے والی ان خبروں کا حوالہ دیا جن میں الیکشن کمیشن کے اندر بعض فیصلوں پر اختلافات کی بات کہی گئی تھی۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی تین نشستوں پر کامیابی کے بارے میں پوچھے جانے پر جوزف نے کہا کہ پارٹی نے ان حلقوں میں کامیابی حاصل کی جو پہلے حکمراں محاذ کے پاس تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی نے بائیں بازو کی قیادت والے محاذ اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف)، دونوں کے امیدواروں کو شکست دی۔ ان کے مطابق، کیرالہ میں انتخابات مجموعی طور پر پُرامن رہے۔

انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے والی تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے مقصد کے بارے میں پوچھے جانے پر جوزف نے کہا کہ اس تنظیم کو خود اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہیے۔ ادھر، سی پی آئی (ایم) کے رہنما پی راجیو نے کہا کہ ریاست کے کئی انتخابی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق، بعض حلقوں میں ووٹوں کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھی، جب کہ کچھ دوسرے حلقوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان تبدیلیوں کے انتخابی نتائج پر ممکنہ اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے۔ راجیو نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے عمل کو بی جے پی کے سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے شفاف اور جمہوری انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔