نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما سمبت پاترا نے ہفتے کے روز کہا کہ دہلی کو ’’یرغمال‘‘ بنانے کے مقصد سے کیا گیا احتجاج پوری طرح ناکام رہا۔ انہوں نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی پر غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مل کر ملک میں افراتفری پھیلانے کا الزام بھی لگایا۔ جنتر منتر پر احتجاج میں شرکت کے لیے جانے والے سیکڑوں نوجوانوں اور کئی رہنماؤں کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد سمبت پاترا نے کہا کہ یہ ’’ہجوم کی حکمرانی پر جمہوریت کی جیت‘‘ ہے۔ بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاترا نے راہل گاندھی کو ’’نااہل‘‘ رہنما قرار دیا۔
انہوں نے جمعہ کے روز راہل گاندھی کے اس بیان کی مذمت کی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ صدر دروپدی مرمو نے ملاقات کے دوران انڈیا اتحاد کے ووٹ چوری کے الزام کی تردید نہیں کی۔ سمبت پاترا نے کہا، ’’جنتر منتر پر جو کچھ ہو رہا ہے اور ٹیلی ویژن و سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں پر جو دکھایا جا رہا ہے، وہ ہندوستان کی اصل تصویر نہیں ہے۔
ہندوستان پُرامن ہے اور بہتر حکمرانی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کے ذریعے قومی دارالحکومت ہی نہیں، بلکہ پورے ملک کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی۔ بی جے پی رہنما نے کہا، ’’یہاں تشدد بھڑکانے، ہاتھا پائی کرنے اور سڑکوں پر تصادم کی صورتِ حال پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن یہ احتجاج پوری طرح ناکام رہا۔ ہجوم کی حکمرانی پر جمہوریت کی جیت ہوئی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’آج دہلی میں جس طرح جمہوریت کی طاقت سامنے آئی ہے اور پوری صورتِ حال قابو میں ہے، اسے دیکھتے ہوئے میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ افراتفری پھیلانے والوں کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں اور ان کا احتجاج بھی ناکام رہا ہے۔‘
‘ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (کاجپا) کے احتجاج کو روکنے کے لیے ہفتے کے روز وسطی دہلی کو قلعے میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ گیانیش کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی آڑ میں ووٹر فہرستوں میں ردوبدل کیا اور ووٹر کے طور پر اندراج کے لیے استعمال ہونے والے اہم دستاویز فارم 6 میں تبدیلی کے معاملے میں اپنے دونوں ساتھیوں کو نظرانداز کیا۔