جموئی: بہار کے جموئی میں نابالغ لڑکی اور اس کے ایک مرد ساتھی کے ساتھ مبینہ طور پر بدسلوکی اور چھیڑ چھاڑ کے معاملے میں مرکزی ملزم نندن یادو کو پولیس نے منگل کو ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی کردیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ٹاؤن تھانے کے علاقے میں ہوئی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مبینہ طور پر کچھ نوجوان ایک نابالغ لڑکی اور اس کے مرد ساتھی کے ساتھ بدسلوکی اور چھیڑ چھاڑ کرتے نظر آئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے کارروائی شروع کی اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کا عمل تیز کردیا۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری نے کہا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ معاملے میں بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ دینے کے قانون یعنی پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں چودھری نے واقعے کی جانب توجہ دلانے کے لیے میڈیا کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قصوروار ثابت ہونے والوں کو سخت سزا ملے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں ملوث افراد کے ساتھ ساتھ ویڈیو بنانے اور اسے پھیلانے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے میں شامل تمام ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ جب ان سے مرکزی ملزم نندن یادو کے پولیس مقابلے میں زخمی ہونے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ فی الحال انہیں اس بارے میں معلومات نہیں ہیں۔ بہار کے وزیر شراون کمار نے کہا کہ ریاستی پولیس نے معاملے میں فوری کارروائی کی ہے اور کسی بھی ملزم کو نہیں بخشا جائے گا۔ انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان کے مطابق واقعے میں ملوث کچھ افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے اور پولیس قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کر رہی ہے۔
ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اشومیدھ دیوی نے بتایا کہ انتظامیہ اپنی کارروائی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ویڈیو جاری کرنے والے شخص سمیت 120 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے، جبکہ دو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور مزید گرفتاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس معاملے میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں بخشے گی۔ اس سے قبل ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس (لاء اینڈ آرڈر) کے ایس انوپم نے بتایا تھا کہ یہ واقعہ 19 ستمبر کو پیش آیا۔
ان کے مطابق نابالغ لڑکی اپنے ایک دوست کے ساتھ جموئی میں تصاویر لینے گئی تھی، اسی دوران کچھ نابالغ طلبہ اور نوجوان وہاں پہنچے اور مبینہ طور پر لڑکی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ پولیس کو اطلاع ملنے کے بعد اہلکار لڑکی کے گھر پہنچے اور اس کا بیان درج کیا۔ پولیس نے بعد میں تین نابالغوں کو حراست میں لیا اور دو دیگر افراد کے ملوث ہونے کی بھی اطلاع ملی۔ اس معاملے میں پوکسو ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔