بنگلہ دیش :ہندوستان کے ساتھ پانی کا مسئلہ سفارت کاری کے ذریعے حل ہونے کی امید

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 08-10-2026
بنگلہ دیش :ہندوستان کے ساتھ  پانی کا مسئلہ سفارت کاری کے ذریعے حل ہونے کی امید
بنگلہ دیش :ہندوستان کے ساتھ پانی کا مسئلہ سفارت کاری کے ذریعے حل ہونے کی امید

 



ڈھاکہ: بنگلہ دیش نے جمعرات کو امید ظاہر کی ہے کہ ہندوستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم سے متعلق مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش نے اس عمل میں بین الاقوامی قانون کی حمایت ملنے کی بھی امید ظاہر کی ہے۔بنگلہ دیش کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے ڈھاکہ میں ایک سیمینار کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے پانی کی تقسیم سے متعلق مسائل حل ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی تقسیم کے معاملے میں بین الاقوامی قانون کی بھی اپنی اہمیت ہے۔

ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 54 مشترکہ دریا ہیں۔ تاہم صرف دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کے لیے 30 سالہ معاہدہ موجود ہے۔ اس معاہدے کی مدت دسمبر 2026 میں ختم ہو رہی ہے۔ اس لیے دونوں ممالک کو اسے تجدید کرنے یا ایک نئے معاہدے پر بات چیت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ہمایوں کبیر نے کہا کہ بنگلہ دیش کی منتخب حکومت ملک کے بہترین مفاد میں فیصلہکرے گی اور اس سے کم پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش ہندوستان سے قابل قبول حل چاہے گا اور ان معاملات پر بین الاقوامی قانون کی پوزیشن بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کو مذاکرات میں عوام کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش نے مشترکہ دریائی کمیشن اور مشترکہ آبی کمیشن کے ذریعے ملاقاتوں کی درخواست کی ہے تاکہ فریقین ایک دوسرے کا موقف سنیں اور بات چیت شروع کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی بات چیت کا آغاز ہوگا اور مذاکرات معاہدے کی تجدید کی راہ ہموار کریں گے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہندوستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ مستحکم اور تعاون پر مبنی ہمسایہ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ ہندوستان نے واضح کیا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ اس کی سفارتی مصروفیت مثبت اور عوام پر مرکوز وژن پر مبنی ہے جس کا مقصد باہمی ترقی اور علاقائی پیش رفت ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی تعاون پر پریس بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ہندوستان بنگلہ دیش کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات میں عملی تعاون اور مشترکہ اقتصادی ترقی کو ترجیح دے رہا ہے۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کو براہ راست فائدہ پہنچانے والے اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔جیسوال نے کہا کہ بنگلہ دیش کے بارے میں ہندوستان کا نقطہ نظر مثبت۔ تعمیری اور مستقبل پر مبنی روابط قائم کرنا ہے جس میں باہمی ترقی اور خوشحالی کے لیے عوام کو مرکز میں رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی حکام کے ساتھ بات چیت میں ہندوستان اسی مقصد پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔

دریں اثنا ستمبر میں ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ گنگا آبی معاہدے پر تکنیکی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ وزارت نے واضح کیا تھا کہ گنگا اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دیگر دریاؤں سے متعلق معاملات مشترکہ دریائی کمیشن کے ذریعے حل کیے جاتے ہیں۔بنگلہ دیش کی جانب سے معاہدے پر نظرثانی کی خواہش سے متعلق سوال پر رندھیر جیسوال نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ نظام مشترکہ دریاؤں سے متعلق معاملات پر بات چیت کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنگا آبی معاہدے اور ہندوستان و بنگلہ دیش کے درمیان مشترکہ دیگر دریاؤں سے متعلق تمام معاملات مشترکہ دریائی کمیشن میں زیر بحث آئیں گے جبکہ گنگا آبی معاہدے پر تکنیکی سطح کی ملاقاتیں جاری ہیں۔